امن کی آشا بھارتی ذہنیت عارف محمود کسانہ ،سویڈن

کچھ عرصہ قبل جنگ نے بھارتی روزنامہ دی ٹائمز آف انڈیا کے ساتھ مل کر بر صغیر میں امن کی آشا شروع کی تھی تاکہ اس خط میں جنگ و جدل کے ماحول کو امن و سکون میں بدلا جا سکے ۔کوئی بھی ذی شعور امن اور سلامتی کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا اور کبھی نہیں چاہے گا کہ جنگ کے مہیب سائے خطہ ارضی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھیں مگر امن اور سلامتی اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتی جب تک انصاف اور فریق ثانی کو برابر کامقام نہ دیا جائے ۔ظلم رہے اور امن بھی ہو یہ ممکن نہیں ہوسکتا۔جب تک دوسروں کو اپنا مطیع بنائے رکھنے ،علاقائی چوہدراہٹ اور نا انصافی کی پالیسی ترک نہ کیا جائے امن کی آشا صرف سوچ کی حد تک رہتی ہے ۔

قیام پاکستان کے بعد پید ا ہونے والی نوجوان نسل کو معلوم ہی نہیں کہ ہندو ہے کیا کیونکہ ان کے ساتھ ان کا پالا جو نہیں پڑا۔ہندوؤں کی ساری تاریخ میں صرف ایک سیاسی فلاسفر پیدا ہوا ہے جس کا نام ہے چانکیہ اور اس کا لقب ہے کوٹلیا جس کے معنی مکار اور فریب کار خود وضاحت کررہے ہیں مزید تفصیلی تعارف کی ضرورت نہیں ۔چانکیہ نے اصول سیاست پر سنسکرت میں ایک کتاب لکھی جس کا انگریزی میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے ۔اپنی کتاب میں چانکیہ نے جو اصول سیاست دئیے ہیں اس کے مطابق ہمسایہ ریاستوں سے دشمن کا سا سلوک روا رکھا جائے دوستی خود غرضی پر مبنی ہو دل میں ہمیشہ رقابت کی آگ مشتعل رکھی جائے اور مکارانہ سیاست کا دامن کبھی ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے ۔امن کے قیام کا خیال تک بھی دل میں نہ لایا جائے خواہ ساری دنیا تمہیں اس پر مجبور کیوں نہ کردے ۔بھارتی ریاست اپنے روحانی باپ چانکیہ کی تعلیمات پر جب عمل پیرا ہوگی تو امن کی آشا کیسے سامنے آئے گی۔
چانکیہ کے ان نظریات کو گاندھی جی نے مذہب کا لبا دہ اوڑھ کر جاری رکھا ۔انہیں سچائی کا مجسمہ اور عدم تشدد کا پرستار کہہ کر پکارا جاتا ہے مگر قائد اعظم محمد علی جناح جن کا دن رات گاندھی سے واسطہ رہتا ہے ایک مختصر بیان میں ساری حقیقت بیان کردی کہ ـ،مشکل یہ ہے کہ گاندھی جی کا مقصد وہ نہیں ہوتا جو وہ زبان سے کہتے ہیں اور جو ان کا در حقیقت مقصد ہوتا ہے اسے کبھی زبان پر نہیں لاتے ۔قائد اعظم نے ایک موقع پر گاندھی کے بارے میں کہا کہ وہ گر گٹ کی طرح اپنا رنگ بدلتا رہتا ہے ۔اسی پالیسی پر نہرو کاربند تھے کہ جسے ختم کرنا پہلے اس کے ساتھ دوستی کرو ،گلے مل کر اسے چھرا گھونپ دو اور پھر اس پر بین کرو اور رورہ کر اپنی ہمدردی جتاؤ۔یہ اس محاورے کی عملی تفسیر ہے جو ہندوؤں کے لئے مشہور ہے کہ بغل میں چھری منہ میں رام رام۔
آخر اس کی بہت سنجیدہ وجہ تھی کہ ہندو مسلم اتحاد کے حامی اور وطن پرست سرسید احمد خان،علامہ اقبال ،قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر مسلم اکابرین دو قومی نظریے کی بنیاد پر الگ وطن کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہوگئے ۔سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا وہ کون سی وجوہات تھیں کہ ہندو مسلم اتحاد کا پیامبر جناح بر صغیر کے بٹوارے پر مصر ہوا اور الگ وطن لے کر دم لیا ۔مطالعہ تاریخ سے عیاں ہے وجہ صرف ایک ہی ہندو ذہنیت تھی اگر ہندو رواداری کا مظاہرہ کرتا اور مسلمانوں کو ان کے جائز حقوق دینے سے گریزاں نہ ہوتا تو پاکستان کبھی بھی معروض وجود میں نہ آتا ۔مسلمانوں کو دوبارہ ہندو بنانے کے لئے شدھی اور سنگھٹن کی تحریکیں اور ان کے ان اشعار سے ساری صورت حال واضح ہوجاتی ہے
اتھا اپنا تو ملامصلا
یہ بلٹی عرب کو پہنچانی پڑے گی
جہاں ہے کعبہ ہوگا شیوجی کا مندر
اسلام کی ہستی مٹانی پڑے گی
تاریخ اس پر شاہد ہے کہ قیام پاکستان کا اعلان سے قبل ہی ہندوؤں نے آسام اور بنگال میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کیا جوپورے ہندوستان میں پھیل گیا۔آزادی کے بعد بھی بھارت میں اب تک ہزاروں مسلم کش فسادات ہوچکے ہیں لیکن آج تک کسی کو سزا نہیں دی گئی ۔مسلم کش فسادات کے لئے ہندوؤں کا حربہ یہ ہوتا ہے کہ خود ہی کسی ہندو جلوس یا مندر پر معمولی سا حملہ کرکے الزام مسلمانوں پر عائد کردیا جاتا ہے اور پھر مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوجاتا ہے ۔سمجھوتہ ایکسپریس پر اسی حکمت عملی کے تحت خود آگ لگائی اور سزا مسلمانوں کو دی ۔بھارت کا کون ساایسا علاقہ ہے جہاں خون ِمسلم آبیاری نہیں ہوئی ۔گجرات،احمد آباد،بھوانڈی ،اور ہر وہ شہر جہاں مسلمان آباد ہیں ان پر قیامت نہ ڈھائی گئی ہو ۔بھارتی مسلمانوں کو ہر جگہ اور ہر وقت اپنی وفاداری کا ثبوت دینا پڑتا ہے ۔بعض علاقوں میں مسلمانوں کو اپنا مسلم نام تبدیل کرکے ہی تعلیمی اداروں میں داخلہ ملتا ہے ۔پاک بھارت جنگ میںپچاس ہزار سے زائد مسلمانوں کو پاکستان کا جاسوس قرار دےکر غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ۔اکثر مقامات پر دیواروں پر یہ نعرہ لکھا گیا کہ ،مسلمانوں جاو پاکستان یا قبرستان۔
آزادی کے بعد مسلمانوں کی کمر توڑنے کے لئے ١٩٥٢ میں زمین داری ایکٹ نافذ کیا گیا اور مسلمانوں سے ان کی زمینیں ہتھیا لی گئیں ۔ہندوں انتہا پسند تنظیموں جیسے آر ایس ایس کو
امن کی آشا اور بھارت،(سویڈن کی ڈائری ،عارف محمود کسانہ )
صوبائی فورسز میں تبدیل کردیا گیا جنہوں نے مسلم آبادی کے خلاف کھلم کھلا تعصب برتا۔مسلمانوں کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور ایک مرتبہ ایک مسلمان لیفٹینٹ جنرل کو آرمی چیف بننے کے استحقاق کے باوجود نہ بنایا گیا اور اسے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کا وائس چانسلر بنا دیا گیا۔
بعض مسلمان بھی گاندھی جی کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملادیتے ہیں اور انہیں سچائی ،انصاف اور سیکولرازم کا علمبردار قرار دیتے ہیں مگر حقیقت وہی جو قائد اعظم نے گاندھی کے بارے میں کہی تھی ان کا سیکولرازم محض دکھاوا تھا۔جب نہرو کی بہن ایک مسلمان کے ساتھ شادی کرنے لگی تو گاندھی نے اس کو روک دیا ۔پھر گاندھی کا اپنا بیٹا ہر ی لال مسلمان ہوا تو اس کا دہرا معیار کھل کر سامنے آگیا ۔پورے خاندان نے اس کے ساتھ قطع تعلق کرلیا اور اسے پھر ہندو بنوا کر گمنامی کی موت سے دو چار کیا ۔بھارت نے چانکیہ کی پالیسی کو قیام پاکستان کے بعد بھی جاری رکھا ۔ایک طرف اثاثوں میں سے پاکستان کے پانچ کروڑ روپے ہڑپ کرلئے اور دوسری جانب کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرلیا۔جو ناگڑھ اور مناور کے پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کے باوجود اس پر قبضہ کیاور حیدر آباد کی خود مختاری کو اپنی جارحیت اور فوج کشی سے روند ڈالا ۔مشرقی پاکستان میں اندرونی غلفشار سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کو دو لخت کرکے جشن فتح منایا۔سیاچن میں پاکستان پر دنیا کی مہنگی ترین جنگ مسلط کررکھی ہے اور جس وجہ سے آئے روز ہمارے کئی جوان جام شہادت نوش کرتے ہیں ۔پاکستان کے دریاؤں سے پانی چرا کر ہمیں بنجر بنانے کا عمل شروع کردیا ہوا ہے ۔پاکستان میں دہشت گردی کے تانے بانے سر حد پار ہی سے ملتے ہیں اور اسی تناظر میں سری لنکا کی ٹیم پر حملہ کرکے پاکستان کی کرکٹ کو تنہائی کا شکار کردیا ہے ۔پاکستان کو سبق سکھانے اور نشان عبرت بنانے کے منصوبہ پر وہ عمل پیرا ہے ۔بلوچستان اور کراچی کے امن کو کون تباہ کررہا ہے اس حقیقت سے سب آگاہ ہیں ۔
بھارتی ذہنیت صرف وہاں کی حکومت ،سیاسی جماعتوں اور راہنماؤں تک ہی محدود نہیں بلکہ عام عوام بھی اسی پر کاربند ہیں ۔اگرچہ ایک بہت ہی قلیل تعداد خلوص دل کے ساتھ امن کی آشا کی حامی ہیں مگر بد قسمتی سے اکثریت ایسا کرنے کی بجائے اپنی حکومت کے نقش قدم پر چلتی ہے ۔اس کا اندازاہ اس حقیقت سے بھی لگا سکتے ہیں یہاں سویڈن میں کئی کریانہ اور گراسری کی دوکانوں سے علم ہوا ہے کہ بھارتی عوام اکثر پاکستانی مصنوعات خریدنے سے گریز کرتے ہی اور پاکستانی اشیاء کو نہیں خریدتے جبکہ پاکستانی عوام بھارتی اشیاء خریدنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ۔یہ ان کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے ۔
بر صغیر میں امن اور سکون سے ہی وہاں بسنے والے عوام کے مسائل حل ہوسکتے ہیں جو خطیر رقم فوجی مقاصد اور ہتھیاروں پر خرچ ہورہی ہے اسے تعلیم ،صحت ،آمدورفت ،سائنسی ترقی اور دیگر شعبوں پر خرچ کیا جاسکتا ہے ۔مگر امن کی آشا اسی وقت مل سکتی ہے جب انصاف،برابری اور دوسروں کی اہمیت کو تسلیم کیا جائے ۔بھارت بڑا ملک ہونے کے ناطے اس کا آغاز کرسکتا ہے اور بھارت نواز حلقوں کو بھی چاہیے کہ وہ یہ بات بھارت کو باور کرائیں اور اس کا آغاز اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو تسلیم کرنے سے کرے اور کشمیر میں آزادانہ استصواب کرا کے امن کی آشا کو عملی موقع دے ۔

 

2 Nov 2012


Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)