(سفر حرمین کے تاثرات (حصہ دوم

مکہ مکرمہ میں دنیا بھر سے اہل اسلام آتے ہیں جبکہ پاکستانی زائرین کی بہت بڑی تعداد ہمیں نظر آئی۔اردو یہاں کی ایک بڑی زبان ہے۔ حرم شریف میں سائن بورڈ اور ہدایات عربی،انگریزی اور اردو میں لکھی گئی ہیں۔ سعودی سیکورٹی والے بھی اردو زبان کے کئی جملے بولتے سنائی دیتے ہیں۔ بیت اللہ میں ہروقت انسانوں کا ہجوم اپنے رب کو پکار رہا ہوتا ہے۔ حجر اسود کو بوسہ دینے کی ہرکسی کو خواہش ہوتی ہے۔ ہماری بھی کوشش تھی کہ ہم بھی یہ سعادت حاصل کریں۔ ابھی ہم آگے بڑھنے کی کوشش کرہی رہے تھے کہ کسی خاتون کی چیخیں سنائی دیں اور پھر کسی نے اس خاتون کو ہجوم سے نکالا۔ معلوم ہوا کہ وہ حجر اسود کو بوسہ دینے کی کوشش میں تھیں کہ بہت زیادہ رش کی وجہ سے وہ اس مشکل کا شکار ہوئیں۔ یہ صورت حال دیکھ کر ہم نے ارادہ ترک کیا اور ہاتھوں کا اشارہ کرکے ہی اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔ بہت سے لوگ حجر اسود تک پہنچنے کے لئے بہت دھکم پیل کرتے جو بالکل مناسب نہیں او ر کچھ تو وہاں تصاویر بنوانے کے لئے ہر حربہ اختیار کرتے ہیں۔ ایک اوربالکل نامناسب رویہ بیت اللہ کے طواف کے دوران اپنے سمارٹ فون سے لائیو ویڈیو بنانا ہے۔ زیادہ تر برصغیر سے تعلق رکھنے والے اس کے شوقین نظر آئے۔ان کے ایسا کرنے سے نہ صرف طواف کرنے والے دوسرے زائرین متاثر ہوتے ہیں بلکہ اس سے خود ان کی عبادت کا اخلاص بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس حوالے سے حرم شریف میں سعودی انتظامیہ سے بات کی تو انہوں نے نہ صرف ہمارے ساتھ اتفاق کیا بلکہ اسے ریا کاری سے بھی تعبیر کیا اور اس بارے میں توجہ مبذول کرانے پر شکریہ ادا کیا۔ مکہ مکرمہ میں نئی تعمیرات جاری ہیں اور حرم شریف اردگر کی بلند و بالا عمارتوں میں گھرا ہوا ہے۔حرم شریف کے اطراف میں ہوٹل کئی منزلہ ہیں جہاں لوگ قیام پذید ہوتے ہیں جبکہ ہم لوگ اس قدر عقیدت رکھتے ہیں کہ ہزاروں میل دور رہتے ہوئے بھی تقدس کا خیال رکھتے ہیں اور اپنے پاوں کا رخ بھی کعبہ کی طرف نہیں کرتے۔لوگوں کی نگاہوں کا مرکز مکہ ٹاور کی آسمان کو چھوتی ہوئی عمارت بن رہی ہے البتہ مدینہ منورہ میں یہ صورت حال نہیں ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں جہاں مذہبی اور تاریخی مقامات ہوتے ہیں ان کے قریب بلند و بالا عمارتیں تعمیر کرنے پر پابندی ہے تاکہ متعلقہ مقام کی اہمیت کم نہ ہو۔مکہ مکرمہ میں جنت المعلیٰ، میدان عرفات، منیٰ، جبل ثور، جبل نوراور دیگر زیارتوں سے فیض یاب ہوئے۔ غار حرا اور غار ثور کی زیارت نشیب سے ہی کرسکے کیونکہ ان دونوں غاروں تک پہنچنا بہت مشقت کا کام ہے۔یہاں انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ جناب رسالت مآب ﷺ مکہ میں اپنے گھر سے کس قدر مشقت کے بعد یہاں پہنچتے تھے۔ غار ثوروہ مقام ہے جہاں رسول اکرمؐ نے ہجرت مدینہ کے موقع پر تین دن اور تین راتیں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ قیام کیا تھا۔ ذہن سوچنے لگتا ہے کہ اس آٹھ سو میٹر بلند سنگلاخ پہاڑ میں جہاں پانی اور سبزے کا نام ونشان نہیں رسول پاکؐ نے دشمنوں سے چھپ کر کیسے وہ وقت گذارا ہوگا اور پھر وہاں سے انہوں نے مدینہ تک ساڑھے چارسو کلومیٹر پیدل سفر ان دشوار گذار صحرائی راستوں سے کیسے کیا۔ آج ہمیں معمولی سی مشقت کرنا پڑے تو ہم فرار کے راستے ڈھونڈتے ہیں۔ مکہ سے مدینہ منورہ تک سفر میں ہمارے گائیڈ مناف خان گزرنے والے مقامات کی تفصیل بتاتے رہے جس سے سفر کا احساس تک نہ ہوا۔وہ بہت اخلاق اور نفیس انسان ہیں۔شہداء بدر جہاں آسودہ خاک ہیں، وہاں جانے کے سعادت اورفاتحہ خوانی کا شرف حاصل ہوا۔ان شہداء کے خون نے دنیا کی تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ مدینہ مورہ سے راستہ میں دو کنوئیں دیکھنے کا بھی موقع ملا۔ ایک کا نام بئیر شفا اور دسرا بئیر روحاہے۔ ان دونوں کنوؤں سے رسول اکرم ؐ نے پانی پیا بلکہ بئیر روحا سے ستر انبیاء اکرام کے پانی پینے کی روایت ہے۔ ہمیں بھی ان دونوں کا پانی پینے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اب فاصلے مٹ رہے تھے اور رسول اکرم کا شہر مبارک قریب آرہا تھا۔آج درود و سلام پڑھنے کا لطف ہی کچھ اور تھا۔ نگاہیں سبز گنبد کی ایک جھک دینے کی منتظر تھیں۔ مسجد نبوی کے میناروں کو نگاہیں تلاش کررہی تھیں۔ شام کے سائے گہرے ہوچکے تھے اور ہم شہر رسول میں داخل ہورہے تھے۔ فضا میں عجیب قسم کی معطر اور پرسکون تھی۔۔ بارگاہ رسالت میں حاضری کا شرف حاصل ہوا اور روضہ اطہر کے سامنے کھڑے ہوکر جی بھر کر درووسلام کے نذرانے پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ایک طویل مدت بعد پھر سے یہ موقع ملا اوردلی تمنا پوری ہوئی۔ وہاں حاضری کی دلی کیفیت کو الفاظ میں بیاں کرنا ممکن نہیں۔ اس بارگاہ سے کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا اور بن مانگے ملتا ہے
منگتے خالی ہاتھ نہ لوٹے کتنی ملی خیرات نہ پوچھو
اْن کا کرم پھر اْن کا کرم ہے اْن کے کرم کی بات نہ پوچھو
مسجد قبا، مسجد قبلتین، شہدا ء احد کے مزارات، مقام غزوہ احزاب، حضرت فاطمہ ؓ کے گھر، جنت البقیع اور دوسری زیارتیں کرنے کاموقع ملا۔ذہن بار بار اسی طرف لوٹتا کہ رسول اکرم ؐ اور صحابہ اکرام ؓ نے دین اسلام کے لئے کس قدر عظیم جدوجہد کی اور یہ اسی کا ثمر ہے کہ آج دنیا بھر میں اذان اور درود وسلام کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔ اسوہ حسنہ ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے اور ہم اس پر عمل پیرا ہوکر ہی اپنے ایمان کی گواہی دے سکتے ہیں۔ آخر میں قارئین کی توجہ لاہور میں قائم خصوصی افراد کی تعلیم وربیت کے ادارہ زیست ویلفئیر فاؤنڈیشن کی طرف مبذول کران چاہوں گا۔یہ ادارہ ذہنی اور جسمانی معذور بچوں اور بڑوں کے لئے گراں در خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ ان ادارہ کو اب کچھ مالی دشواریاں ہیں جن میں عمارت کا کرایہ ادا کرنا ہے۔ درد مند مخیر حضرات ٹیلی فون نمبر 03310417646 پر رابطہ کرکے انسانی خدمت کے اس ادارہ کو قائم رکھنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔

#arifkisana
weblinks
23 Dec 2019


Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)