کرونا وائرس، سائنسی، سماجی اور مذہبی انداز فکر

کرونا وائرس، سائنسی، سماجی اور مذہبی انداز فکر ۔ 
اس وقت پوری دنیا کورونا وائرس سے شدیدپریشان ہے اور ہر جگہ ہمہ وقت اسی بارے میں بحث ہورہی ہے۔ اس بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے لیکن پھر بھی کچھ گوشے ایسے ہیں جن پر کم بات کی گئی ہے یا پھر مزید تفصیل کی ضرورت ہے۔ یہ سوال بھی گردش عام ہے کہ کرونا وائرس لیبارٹری میں تیا رکرکے پھیلایا گیا ہے ۔ لوگ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ اینٹی وائرل ادویات کیوں موثر نہیں اور کرونا وائرس کی ویکسین ابھی تک کیوں نہیں بن سکی۔ ان سب کی وضاحت سے قبل وائرس کے بارے میں جاننا اشد ضروری ہے۔ وائرس اپنی جسامت میں بہت ہی چھوٹا ہے حتیٰ کہ کہ یہ آنکھ سے نظر نہ آنے والے بیکٹیریا اور خلیہ سے بھی چھوٹا ہوتاہے۔ اس کے اندر وراثتی مادہ آر این اے یا ڈی این اے ہوتا ہے جس سے یہ اپنی نشوونما اور تعدا د میں اضافہ کرتا ہے لیکن اسی صورت میں، جب یہ کسی بھی جاندار کے جسم میں اس کے خلیوں میں چلا جائے۔ جب تک یہ کسی جاندار کے جسم میں نہیں ہوتا تو یہ نے جان مادے کی طرح رہتا ہے۔ جب کوئی بھی وائرس خلیہ یا سیل کے اندر چلا جاتا ہے تو کوئی دوا اس پر اثر نہیں کرتی اور نہ اس کو ختم کرسکتی ہے البتہ اینٹی وائرل ادویات کسی حد تک اس کی نشوونما اور اثرات کم کرسکتی ہیں ۔ وائرس کی بہت سی اقسام ہیں اور یہ اپنے اندر موجود وراثتی مادہ آر این اے یا ڈی این کو تبدیل کرتے رہتے ہیں اور یہ قدرتی عمل ہے۔ اسی لئے جب ایک قسم کے وائرس کے خلاف ویکسین بن جاتی ہے تو یہ موثر ہوتی ہے لیکن جب وہی وائرس اپنے وراثتی مادے میں تبدیلی کرلے تو وہ پھر وہ ویکسین موثر نہیں رہتی۔ کرونا وائرس کے لئے بہت سے ممالک ویکسین بنانے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ سویڈن کے کارولنسکا انسٹیٹیوٹ نے کورونا وائرس کے خلاف ویکسین بنا لی ہے اور اب اس کا لیبارٹری جانوروں پر تجربہ کیا جارہا ہے۔ سویڈن کی کوشش ہے کہ ایسی ویکسین بنائی جائے جو اس کی مستقبل میں ترمیم شدہ صورتوں میں بھی کارآمد ہو۔ قابل استعمال ویکسین آنے میں ابھی کافی وقت درکار ہے۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ کیا کرونا وائرس لیبارٹری میں بنا کر چھوڑا گیا ہے ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ ایسا ممکن توہے کہ وائرس کے وراثتی مادہ میں لیبارٹری کے اندر تبدیلیاں پیدا کی جاسکیں لیکن یہ بہت پیچیدہ اور مشکل عمل ہے۔ جینیاتی انجنئرنگ میں وائرس کوان مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور وہ ایک طریقہ کار کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کسی ملک نے لیبارٹری میں کرونا وائرس بنا کر چھوڑنا ہی تھا تو وہ ساتھ ہی اس کی ویکسین بناتا تاکہ اس کی اپنی آبادی اس سے محفوظ رہتی اور اس ویکسین کو دنیا بھر میں فروخت کرکے مال بناتا۔ حادثاتی طور پر وائرس کا اس طرح لیبارٹری میں بننا اور باہر آجانا بھی ممکن نہیں نظر آتا۔ بادی النظر میں یہ قدرتی تبدیلیاں ہوسکتی ہیں جنہیں سانئسی زبان میں میوٹیشن کہتے ہیں۔انسان کے ہاتھوں ماحولیاتی تبدلیاں اس قدر سنگین ہیں کہ مستقبل میںکرونا سے بھی مہلک صورتیں پیدا ہوں گی۔ یہی قانون فطرت ہے۔کائنات میں تبدلیوں کا عمل ہمیشہ سے جاری رہتا ہے اور نت نئی چیزیں بنتی رہتی ہیں اس طرف قرآن حکیم کی سورہ نحل کی آیت 8 میں ہے کہ اللہ کائنات میں ایسی چیزیں پیدا کرتا رہتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں۔ اسی حقیقت کو سورہ فاطر کی پہلی آیت میں یوںکہا کہ اللہ کائنات کی تخلیق میں اضافہ کرتا ہے اور نئی چیزیں معرض وجود میں آتی ہیں۔ علامہ اقبال نے اسی بارے میں کہا تھا کہ
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون
کورونا وائرس کو جو مذہبی حلقے خدا کا عذاب قرار دے کر توبہ اور گناہوں کی معافی کا مشورہ دے رہیں تو عرض یہ ہے کہ کرونا عذاب تو ہے جس سے انسانیت تکلیف اور اذیت میں مبتلا ہے لیکن اگر اسے خدا کی طرف سے انسانوں کی گناہوں کی وجہ سے عذاب قرار دیا جائے تو یہ درست نہیںہوگا۔ خدا کی طرف سے سزا کے طور پر عذاب ان اقوام پر آیا کرتا تھا جو اللہ کے احکامات کی سرکشی کرتے تھے لیکن پوری دنیا کے لوگوں پر وہ عذاب نہیں آتا تھا مزید یہ ہے کہ نیک لوگ اس سے محفوظ رہتے تھے۔ لیکن کرونا کی زد میں کیا مسلمان کیا کافر سب ہی آرہے ہیں۔ اگر مے خانے اور نائیٹ کلب بند ہیں تو مساجد بھی خالی ہوگئی ہیں۔ کیا وائرس سے سب سرکش اور گناہ گار ہی ہلاک ہورہے ہیں اور نیک لوگوں پر اس وائرس کا کوئی اثر نہیں ہوتا؟ توبہ ، استغفار اور اللہ سے تعلق تو بندہ مومن کا ہمیشہ ہی رہتا ہے چاہئے کوئی وبا ہو یہ نہ ہو۔جہاں تک دعا کا تعلق ہے توقبولیت اسی دعا ہے جو قانون قدرت اور سنت اللہ کے تحت ہو۔ کورونا وائرس سے بچنے کے لئے آج کل فاصلہ رکھنے کا کہا جاتا ہے لیکن یہ اصول رسول اکرم نے دیا ہے کہ جب بھی جذام کے مریض کو دیکھو تو اس سے دور بھاگو اور اگر کہیں سامنے آجائے تو ایک نیزے تقریبا ایک میٹر کا فاصلہ رکھو۔ آپ نے قرنطینہ کا اصول بھی بتایا کہ جہاں طاعون پھیلا ہو وہاں سے نہ نکلو اور دوسرے لوگ اس بستی میں نہ جائیں جہاں یہ مرض پھیلا ہو۔ اس قدر روشن تعلیمات کے باوجود ہم ٹونے ٹوکٹوں اور وظیفوں کے چکر میں پڑے ہیں۔
کورونا وائرس سے قبل کئی مہلک امراض اور وبائیں آچکی ہیں جو اس سے زیادہ قاتل تھیں جن سے لاکھوں لوگ لقمہ اجل بنے۔ چودھویں صدی میں طاعون کی بیماری سے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ موت کی نیند سوگئے۔ یورپ کی ایک تہائی آبادی طاعون کی وجہ سے ہلاک ہوئی۔ طاعون سے 1909 میں برصغیر میں لاکھوں لوگ جان بحق ہوئے اور 1995میں بھی اسی وجہ سے ہزاروں اموات ہوئیں۔ چیچک، ٹی بی، پولیو، ہیضہ، ملیریا اور دیگر کئی بیماریوں سے کروڑوں لوگ دنیا سے گئے، کورونا وائرس کی اموات ان کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ دنیا میں اب بھی ہر سال بیس لاکھ کے قریب لوگ ملیریا سے مرتے ہیں لیکن کورونا نے ایک خوف پیدا کردیا ہے جس میں بہت بڑا کردار سوشل میڈیا کا ہے اس لئے اپنی طرف سے ہر ممکن احتیاط ضرور کریں لیکن اپنے آپ کو خوف میں مبتلا نہ کریں اور جن لوگوں کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے ان کی ہر ممکن اعانت کریں ۔ خدا آپ سب کو سلامت رکھے۔

#arifkisana #CoVid19 #Coronavirus #Pandemic

Column was pubslihed ;
https://www.dailyausaf.com/epaper/popup.php?newssrc=issues/2020-04-03/107361/p1004.gif

3 Apr 2020


Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)