رمضان سے ہم نے کیا حاصل کیا۔۔تحریر:عارف محمود کسانہ

 

رمضان المبارک اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں کا سایہ ہم پر فگن کرنے کے بعد رخصت ہوا ہے چونکہ اس ماہ مبارک میں
انسانیت کے نام خدا کا آخری پیغام اور ہدایت کا نزول ہوا تھا اس لئے عید الفطر کی صورت میں جشن نزول قرآن منایا جاتا ہے ۔کسی اور مذہب میں رمضان کے روزوں کی صورت میں مجاہدانہ تربیت کا اس قدر اہم نظام موجود نہیں جیسا کہ دین اسلام میں ہے مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ہم محض فاقہ کشی کو روزہ سمجھ لیتے ہیں اور ایک حدیث رسول ؐ پاک کے مطابق برائیوں کو ترک نہ کرنے پر صرف بھوک اور پیاس ہی ملتی ہے ۔جس قوم میں رمضان کی صورت میں بہترین سپاہیانہ سالانہ ٹریننگ کا نظام ہو اس قوم کا کردار اور خوبیاں سب سے اعلیٰ و ارفع ہونی چاہئیں تھیں ۔روزہ کی روح اور اس کے اصل مقصد کو نہ ہی ہم سمجھ پاتے ہیں اور نہ ہی رمضان کے بعداس حاصل تربیت کو باقی گیارہ مہینوں میں اپناتے ہیں۔کچھ یہی صورت حال ہم دیگر عبادات کے ساتھ کرتے ہیں جنہیں ہم نے رسمی انداز میں ادا کرنے کو ہی تمام غرض غائیت سمجھ رکھا ہے ۔
علامہ اقبال بھی اس حقیقت کو یوں اجاگر کرتے ہیں۔
نماز و روزہ و حج و زکوٰۃ
یہ سب باقی ہیں تو باقی نہیں
جواب شکوہ میں حکیم الامت مزید لکھتے ہیں،
رہ گئی رسم اذاں ،روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی
مسجد یں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہے
یہی وجہ ہے کہ ہمارے لاکھوں کے اجتماع ،مساجد میں قیام الیل اور دیگر رسمی عبادات نتیجہ خیز نہیں ہیں۔جس قوم کا ہر سال لاکھوں افراد کا کئی دنوں تک عالمگیر اجتماع ہو مگر اس قوم کی تقدیر نہ بدلے تو ضرور سوچنا چاہیے کہ وجہ کیا ہے۔ہماری پانچ وقت نماز بھی ہمیں برائیوں سے نہیں روکتی حالانکہ یہ نماز کا دعویٰ ہے۔وجہ بھی قرآن حکیم سورہ الماعون میں خود بتاتا ہے ۔جو صلوٰۃ کی حقیقت سے نا آشنا ہوں اور صرف ظاہری حرکات و سکنات کو ہی حقیقت صلوٰۃ سمجھ لیں وہ بجائے اس کے کہ برائیوں سے بچائے اور بہتر نتائج پیدا کر کے وہ ہلاکت کا باعث بن جاتی ہے ۔
ماہ رمضان کے روزے رکھنے،نماز باقاعدگی سے ادا کرنے اور قرآن حکیم کی تلاوت کے باوجود اگر ہماری ذاتی اور اجتماعی زندگی میں بہتری پیدا نہیں ہورہی تو ہمیں ضرور سوچنا چاہیے کہ اس کی وجہ کیا ہے قرآن حکیم بھی ہمیں حکم دیتا ہے کہ سوچا کرو۔حکیم الامت علامہ اقبال غورو فکر کے بعد اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ،
منزل و مقصود ِقرآن دیگر است
رسم ِو آئین مسلمان دیگر است
قرآن حکیم کی تعلیمات کچھ اور ہیں اور مسلمانوں کا طرز ِعمل کچھ اور ہے ۔عبادت محض کچھ رسمی امور بجالانے کا نام نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں خدا کے آخری پیغام جو حضور ؐ کی بدولت ہمیں ملا ا س پر عمل پیرا ہونے کا نام ہے ۔اور یہی ہمیں زمانہ میں عزت و وقار دے گا۔
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلمان
اللہ کرے عطا تجھے جدت ِکردار

 

23 Aug 2012

Comments powered by Disqus

Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)

This website was built using N.nu - try it yourself for free.(info & kontakt)