اہل یورپ کے لیے بھی رحمت

قرآن حکیم حضورﷺ کو پوری کائنات کے لیے رحمت قرار دیتا ہے (۱۰۷؍۲۱) اب ایک غیر مسلم یہ سوال کرسکتا ہے کہ یہ کیسے مان لیا جائے کہ آپ کے نبی پوری کائنات کے لیے رحمت ہیں اور پھریہ کہ وہ غیر مسلموں خصوصاََ اہل یورپ کے لیے کیسے رحمت ہوسکتے ہیں ہیں ؟ سوال نہایت اہم ہے اور ہمیں دلائل کے ساتھ وضاحت کرنا ہوگی کہ واقعی نبی رحمتﷺ پوری کائنات بشمول اہل یورپ کے لیے بھی رحمت ہیں اور ظاہر کہ دلائل بھی وہ پیش کرنا ہوں گے جو خود اُن کیااپنے اہل علم کے ہوں تاکہ وہ انہیں تسلیم کرسکیں۔ جہاں تک کائنات کا تعلق ہے تو آج کی جدید تحقیق نے ثابت کردیا کہ ہماری زمین جس کہکشاں کا حصہ ہے اُس میں موجود ستاروں کی تعداد اس قدرزیادہ ہے کہ ہمیں صرف انہیں گننے کے لیے چھ ہزار سال درکار ہیں اور اگرہم روشنی کی رفتار سے سفر کرسکیں تو ایک ستارے سے دوسرے ستارے تک جانے کے لیے کروڑوں سال درکار ہوں گے۔ ہماری کہکشاں ملکی وے کے قریب ترین کہکشاں اینڈرو میڈا ہے جہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں پچیس لاکھ نوری سال درکار ہیں۔ عدم سے وجود میں آنے والی اس کائنات کی وسعت کا اندازہ کریں کہ ایک اندازے کے مطابق ۲۴۰ بلین کہکشائیں موجود ہیں ۔ اسی لیے خدا نے اپنے آپ کو مشرقوں اور مغربوں کا رب قرار دیتا ہے (۱۷؍۵۵)۔ابھی سائنسی تحقیق سرگرداں ہے لیکن قرآن نے بتا دیا ہے کہ زندگی صرف زمین پر ہی نہیں بلکہ کائنات میں دیگر سیاروں پر بھی موجود ہوسکتی ہے اور اس کا بھی امکان موجود ہے مختلف سیاروں میں موجود مخلوق ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ کرسکے (۲۹؍ ۴۲ اور ۴۹؍۱۶)۔ قرآن نے یہ واضع کردیا ہے کہ انسان کائنات کی سب سے اعلیٰ اور بہترین مخلوق یعنی اشرف المخلوقات نہیں ، اگرچہ وہ اکثر میں سے بہتر ہے لیکن انسان سے بھی بر تر مخلوق کائنات میں موجود ہے (۷۰؍۱۷)۔خدا کائنات میں تخلیقی اضافے کرتا رہتا ہے ( ۱؍۳۵ )۔ وہ ایسی مخلوق پیدا کرتا رہتا ہے جو علم انسانی میں بھی نہی ہوتی(۸؍۱۶)۔ جب خالقِ کائنات نے حضورﷺ کو پوری کائنات کے لیے رحمت قرار دیا ہے تو اس میں صرف ہماری زمین شامل نہیں اور نہ ہی حضورﷺ کی نبوت اور رحمت صرف اس زمین تک ہی محدودہے بلکہ جہاں جہاں تک خدا کی خدائی ہے وہاں وہاں تک حضورؐ کی مصطفائی اور رحمت ہے۔ جہاں بھی زندگی جس صورت میں میں ممکن ہے یا مستقبل میں موجود ہوگی حضورؐ کی رحمت و نبوت وہاں کے تقاضوں کے مطابق کسی نہ کسی طرح وہاںیقیناََ موجود ہوگی۔

اب سوال یہ کہ حضورؐ اہل یورپ کے لیے کیسے رحمت ہیں؟تاریخ شاہد ہے کہ آپ ﷺ کے لائے ہوئے پیغام نے مروجہ نظریات میں جکڑے ہوئے انسانوں کو سوچنے سمجھنے اور غوروفکر کا پیغام دیتے ہوئے بارہا کہا تتفکرون یعنی سوچا کرو جس سے انسانوں کو سوچنے سمجھنے اور غور و فکر کرنے کا سائنسی انداز فکر ملا جس کی بدولت انسان آج ترقی کی منازل طے کررہا ہے۔ بڑی حیرت کی بات ہے کہ مذہب کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہوکر اندھی تقلید کو مسترد کرتے ہوئے انسانوں کی سوچوں پر لگے تالے کھول کر وہ دین پیش کیا جو مذہب کے لیے ایک چیلنج تھا۔ جو کسی خوف ، معجزے یا مافوق الفطرتمحرکات کی بجائے یہ پیغام دے رہا تھا کہ اسے بھی اندھے اور بہرے بن کر تسلیم نہ کرو بلکہ غورو فکر اور دل و دماغ کے اطمینان کے بعد Conviction کے بعد تسلیم کرو(۷۳؍۲۵)۔ یہ بھی بہت قابل غوربات ہے کہ نبی رحمت ؐ کی وساطت سے دنیا کو جو کتاب ملی وہ کوئی ایسی کتاب نہیں کہ جس میں مذہبی رسوم کو ادا کرنے کی تفصیل ہو بلکہ یہ ایک صحیفہ انقلاب اور کتاب زندگی ہے جس کی بدولت یورپ کو تاریک دور سے نجات ملی اور مسلمانوں کے سائنسی انداز فکر اور علم سے فیض یابی کرتے ہوئے وہ ترقی کی اس شاہراہ پر گامزن ہوئے جس پر سفر طے کرتے ہوئے وہ آج اس مقام پر موجود ہیں۔ یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ اس حقیقت کا اعتراف خود اہل یورپ کرتے ہیں ۔آپ ؐکے اُس ا نقلاب کا پوری دنیا نے اعتراف کیا ہے اور دنیا کے بڑے بڑے مفکرین نے آپ کو اس پر خراج عقیدت پیشکرتے ہیں ۔ اس طویل فہرست میں لارڈمائن، مائیکل ایچ ہارٹ، لیونرڈ کارلائل، براؤن، سٹیفن سن، سمتھ، سر ولیم میور، سپالڈنگ، ریمنڈلبروگ، ڈاکٹر راؤڈن، گِبن، سر رچرڈ گریگوری، برناڈ شاہ، گوئٹے، برگساں، کیتھلین بلس، لیمیرٹے، ہملٹن گب، جوزف سیہیچ، آرتھر گیلمین، ون کریمر، بوڈلے، رابرٹ گولیک، جوزف نونان اور ایک طویل فہرست ہے کہ کالم کی تنگ دامنی حائل ہے اوروہ سب تسلیم کرنے پر مجبور ہیں اور اس یہ حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ حضورؐ اہل یورپ کے لیے بھی رحمت ہیں۔ 

یورپ کے بادشاہوں LEO 1 (717-741) , LEO V (813-820), SCOTUS ERIUGENA (815-877) OTTO II (955-983), SYLYESTER II (996-1003), BERENGAR OF TOURS (999-1088) ROGER I (1031- 1101), JOHN XVII (1003-1009), GREORY VII (1073-1085) PETER ABELARD (1079-1142), ROGER III (1174-1213), FREDERICK BARBAROSSA (1152-1190)

اور کلیسا کے پاپاؤں نے قرآن پڑھا ا اور 788 – 1200 تک اس کا طرز جہاں بانی اختیار کرکے زمینوں، سمندروں، ہواؤں اور فضاؤں پر چھا گئے۔ آٹھویں صدی عیسوی سے پانچ سو سال بعد تک عربی یورپ کی علمی زبان اور قرآن یورپ کا ضابطہ حیات رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ عربی ہی نوع بشر کی سائنسی زبان رہی ہے۔ تمام کتابیں عربی میں لکھی جاتی تھیں۔ یورپ کے جو لوگ تکمیل علم کرنا چاہتے تھے وہ عربی زبان سیکھے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔ بحوالہ BRITISH RESEARCH CHAPTER 1. PAGE 4 ؓ ٓبارہویں صدی عیسوی کے فضلائے یورپ کی سوانح عمریوں سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ان سب نے قرآن کو ضابطہ حیات کے طور پر اختیار کرلیا تھا AMERICAN RESEARCH P. 124 

ؑ اہل امغرب خود اعتراف کرتے ہیں کہ عظمت کے اعتبار سے کوئی زبان قرآن کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ اس کی برتری اس کا ذخیرہ الفاظ اور اسلوب ہے۔ اس کی صرفی و نحوی خصوصیات کسی دوسری زبان میں نہیں پائی جاتیں (HISTORY OF ISLAM. CHICAGO UNIVERSITY P. 37) جدید سائنس اور علوم و فنون کو اپنے فہم کے اظہار کے لیے جس اسلوب کی ضرورت تھی وہ عربی میں عبرانی اور آرامی زبانوں سے بہت بہتر تھی (CARNEGIE RESEARCH. P. 18, 417, 551) ان کے اہل علم مانتے ہیں کہ ہم سائنس کا قرآن سے تعلق قائم کیے بغیر اس کا صحیح ادراک کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟( HISTORY OF ISLAM, CHICAGO UNIVERSITY P.133 ) زندگی کا شائد ہی کوئی ایسا گوشہ ہو جس میں قرآن نے مغربی روایات کو مالا مال نہ کیا ہو۔ سائنس طب، صنعت و حرفت، تجارت وایجادات بلکہ سارے علوم کا علمی و فنی ذوق قرآن سے حاصل ہوا ہے۔ اگر جدید سائنسی اصطلاحات سے صرف نظر کر بھی لیا جائے تو قرآن کا زندگی میں جو علمی حصہ ہے اس کی حوالہ جاتی فہرست ہی کے لیے بہت سے صفحات درکار ہوں گے اور پھر بھی وہ نامکمل رہے گی۔ (BRITISH RESEACH P. 42ٌ) سائنس پر قرآن کے احسانات کا اہل یورپ اعتراف کرتے ہیں ۔ قرآن نے ایسے سائنسی، معاشی، معاشرتی، سیاسی اور ادبی تصورات دیئے ہیں جس کا ان کی زبان پر اثر پڑا ہے۔ انگریزی زبان میں آج بھی ایک ہزار سے زائد عربی کے الفاظ کی موجودگی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے( BRITISH REDEACH VOL 2, P.134 ) ۔یورپی سائنسدان Roger Bacon نے اہل یورپ کو نصیحت کی سائنسی ترقی کے لیے عربی زبان سیکھیں اور مسلمان سائنسدانوں کی کتب پڑحیں۔ مسلمان سائنس کے میدان میں Pioneerتھے اور آج کی سائنسی ترقی ان کی مرہون منت ہے (Vicki Megh BBC FOCU Jan 20014 Page 17)

ٰٰٰیہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ قرآن کے بغیر انسانی تہذیب اس حد تک نہ پہنچتی جس پر پہنچ کر وہ ارتقاء کی تمام سابقہ حالتوں پر سبقت لے گئی۔قرآن میں ایسے محکم اصول موجود ہیں جن کی بنیاد پر پوری دنیا کے ملکوں اور قوموں کی تشکیل نو ہوسکتی ہے۔ دنیا اس غلط فہمی میں مبتلا رہی کہ جدید سائنس کا موجد یونان تھا لیکن جدید تحقیقات سے یہ ناقابل تردید حقیقت سامنے آئی کہ یونان نے بعض نظریات ضرور قائم کیے تھے لیکن تجرباتی علم کو عمومی طور پر اختیار کرنا یونانی مزاج کے خلاف تھا۔ قرآن ہی وہ کتاب ہے جس نے اپنے پڑھنے والوں کے لیے معروضی تحقیقات اور تجربی معلومات کو لازم قرار دیاہے۔ (BRITISH RESEARCH VOL 2. P. 134) ۔ 

اگر اہل یورپ حضور ؐ کے پیام رحمت سے مستفیذ ہوکر ترقی کرسکتے ہیں تو موجودہ زمانے کے مسائلContemporary Problems کو بھی کتاب اللہ کی روشنی میں حل کیا جاسکتا ہے۔ کلام اللہ انسانوں کے لیے زمان و مکاں کے ہر دور میں رہنمائی ہے۔ یہ دنیا اور آخرت میں کامیابی کا Road Map ہے۔ یہ ہماری شاہراہ زندگی پر درست سمت میں سفر کے لیے ہمارا Navigator ہے۔ یہ کامیاب زندگی گذارنے کے لیے Standard Operating Procedure ہے ۔یہ صحیفہ فطرت ہے جو انسان کو اُس کے مقام سے آشنا کرتی ہے۔ کلام اللہ ہمارے پاس ہو بہو اسی شکل میں پہنچا جس طرح وحی الہی کے مطابق رسول اللہﷺ نے اسے ترتیب دیا۔ نزول قرآن کے کچھ عرصہ بعد مسلمانوں نے اسے تسخیر جہاں کی بجائے برکت، تسبیح اور ثواب حاصل کرنے لیے رکھ چھوڑا جبکہ اہل مغرب نے اس پر غور وفکر کیا اور انہوں نے چاند کی تسخیر کے بعد مریخ پر کمند ڈال دی ہے۔ اگر ہم بھی اس پر غور و فکر کریں تو عروج حاصل کرسکتے ہیں ۔ روش محشر ہم سے پوچھا جائے گا کہ ہم نے قرآن کے ساتھ کتنا تعلق قائم کیا تھا (۴۴؍۴۳) اور حضورﷺ اللہ سے اپنی امت کی شکائیت کریں گے کہ انہوں نے قرآن کو چھوڑ دیا تھا (۳۰؍۲۵) ۔اس لیے ہم پر فرض ہے کہ ہم قرآن میں غوروفکر اور تدبر کریں۔ قارئین ایک کام کریں جس کے لیے آپ کے صرف چند لمحے صرف ہوں گے۔ باوضو ہوکر قرآن حکیم کا کوئی بھی مترجم نسخہ لیں اور سورہ الحدید کی آیت سولہ (۱۶؍۵۷) غور سے پڑحیں اور سوچیں ،اگر آپ نے اسے دل کی گہرائیوں سے پڑھا تو آپ کی زندگی بدل جائے گی۔ ایک حدیث نبویؐ کے مطابق ہر مسلمان اپنے پاس ایک قرآن کانسخہ ہونا چاہیے۔ حاصل بحث اور گذارش یہ ہے کہ ہر ایک شخص کے پاس قرآن حکیم کا اپنی زبان میں مترجم نسخہ ہو اور جب بھی کوئی آیت پڑھیں اُس پر بقول مولانا محمد علی جوہر نشان لگاتے جائیں تاکہ ایک تو حوالے یاد رہیں اور دوسرا یہ جائیزہ بھی لے سکیں کہ آپ نے کتنا مطالعہ اور تدبر کیا ہے۔ حضورﷺ سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم قرآن کے ساتھ اپنارابطہ مضبوط کریں اور یہ تعلق ہمہ وقت قائم رہنا چاہیے۔ کیونکہ بقول حکیم الامت ؒ 

تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو               کتاب خواں ہے مگرصاحبِ کتاب نہیں                           

10 Jan 2015


Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)