سویڈش وزیر اگر ڈنمارک میں ہوتی تو پکڑی نہ جاتی۔

زندہ قوم ایسی ہوتی ہے 

کل سویڈن کی ایک وزیر نے استعفٰی دے دیا۔ اسے پولیس نے شراب پی کر گاڑی چلانے پر چیک کیا۔ خاتون وزیر نے اس جرم کے ارتکاب پر از خود فوری طور پر وزارت سے استعفٰی دیا اور کہا کہ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہے اور میں ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزارت سے استعفٰی دے رہی ہوں

وہ کوپن ہیگن میں ایک پارٹی کے بعد وہاں سے کار چلا کر سویڈن آرہی تھیں اور جب ڈنمارک اور سویڈن کے درمیان سمندر کے پل سے گذر کر سویڈن پہنچیں تو پولیس نے چیک کیا کہ ان کے خون میں الکوحل کی مقدار 0.2 per Mille ہے جس بنا پر وہ سویڈن میں گاڑی نہیں چلائی جاسکتی۔ دلچسپ بات یہ کہ انہوں نے ڈنمارک میں گاڑی قانونی طور پر چلائی کیونکہ وہاں یہ حد 0.5 ہے۔ پولیس کے پکڑے جانے ہر سویڈش وزیر نے اپنی نہ صرف غلطی تسلیم کی بلکہ ازخود مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ سویڈن کی کم عمر ترین وزیر تھیں اور بہت قابل سمجھی جاتی ہیں۔ اس والدین کا تعلق بوسنیا کے ایک مسلم گھرانے سے ہے لیکن انہوں نے اپنے اپنی مذہبی شناخت پر کبھی زور نہیں دیا۔ وزیر کا خیال تھا چونکہ پارٹی کے بعد کافی وقت گذر چکا ہے اس لیے ممکن ہے کہ اس کے خون میں اب الکوحل کی قابل تعزیر مقدار نہ ہو۔ 
سویڈش وزیر اگر ڈنمارک میں ہوتی تو نہ پکڑی جاتی۔

نہ کسی ٹی آر او کا انتظار، نہ عدالت سے التوا کی درخواست، نہ کسی کمیشن کا انتظار اور نہ کسی نے پولیس کے کانسٹیبل کا معطل کیا 

کسی نے اسے وزارت چھوڑنے کے لیے نہ کہا بلکہ اس نے خود یہ فیصلہ کیا۔ یہ ہے زندہ قوم کے رہنماؤں کی نشانی۔ 

زندہ قوم نعرے لگانے یا ترانے گانے سے نہیں بنتی۔

زندہ قوم اپنے عمل سے نظر آتی ہے جیسے سویڈش قوم 

پاکستان کے لٹیرے، کرپٹ،قانون شکن  رہنماؤں کو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے

اور جو یورپ کو اخلاقی طور پر پست خیال کرے ہیں اور وہ جو تبلیغ کرنے یورپ کا رخ کرتے ہیں

انہیں سوچنا چاہیے کہ اخلاقی طور پر کون تباہ ہے اور تبلیغ کی کہاں ضرورت ہے؟؟؟؟  

 

News Published in Daily Ausaf London
http://europe.ausaf.pk/wp-content/uploads/2016-08-15/e1.jpg

http://www.dailyausaf.com/story/120725


15 Aug 2016


Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)