سویڈن میں مقیم اپنے پاکستانیوں کے نام

#arifkisana
ہماری حالت یہ ہے کہ جہاں ہم رہتے ہیں اس کی خبر نہیں اور جہاں رہتے نہیں اس کا سب علم ہے۔سویڈن میں مقیم ہم
پاکستانیوں کو یہ سب معلوم ہے کہ حالیہ انتخابات کے بعد پاکستان میں حکومت سازی کن مراحل سے گزر رہی ہے۔ صدر کون آرہا ہے وزراء کون کون ہیں؟ کون کہاں سے جیتا اور کون کہاں ہارا غرض پاکستان کے سارے انتخابی منظر اور وہاں ہونے والی ہر خبر کا علم ہے اگر نہیں علم تو سویڈن کے حالات کا کچھ علم نہیں۔ حیرت ہے نا ؟ 
جس ملک میں ہم رہ رہے ہیں اس میں کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی یہاں ہونے والے انتخابات کی آگاہی ہے۔ سویڈن جہاں مستقل طور پر رہ رہے ہیں اور جس سے ہمارا حال اور مستقبل وابستہ ہے اس سے لاتعلق ہیں۔سویڈن میں رہنے والے دوستوں کو پاکستانی سیاسی جماعت کا سب پتہ ہے لیکن سویڈن کی مختلف سیاسی جماعتوں کے منشور کیا ہیں اور وہ کون کون سے بڑے نکات کے تحت وہ انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں، اس بارے صرف چند افراد ہی آگاہی رکھتے ہیں۔ بے روزگاری، سیاسی پناہ، ماحولیات، ٹیکس، رہائشی مکانات، سکولوں کی صورت حال، یورپی یونین میں سویڈن کا کردار، صحت عامہ، کاروبار اور دوسرے اہم معاملات جن کا تعلق براہ راست یہاں رہنے والوں کی زندگی اور مستقبل کے ساتھ ہے لیکن نہ انہیں ان کا کوئی علم ہے اور نہ ہی کوئی دلچسپی۔ جسمانی طور وہ سویڈن میں رہتے ہیں لیکن ذہنی طور پر پاکستان میں۔ 9 ستمبر کو سویڈن میں بلدیاتی، ریجنل اور پارلیمنٹ کے انتخابات ہو رہے ہیں، ان کے بارے میں ہمارے لوگوں میں دلچسپی واجبی سی بھی نہیں۔ پاکستان کی خبریں ضرور شوق سے دیکھیں لیکن دن میں کم از کم ایک بار ہی سہی سویڈن کی خبریں بھی دیکھ لیا کریں۔ 
پاکستان کی حکمران سیاسی جماعت، تحریک انصاف کی یہاں رکنیت سازی مہم پورے زوروشور سے جاری ہے اورتحریک انصاف سویڈن کی قیادت حاصل کرنے کی جنگ بھی جاری ہے۔ پارٹی انتخابات میں حصہ لینے کی زبردست تیاریاں ہورہی ہیں اور بڑے اجتماعات ہو رہے ہیں۔ ہر کوئی اپنے دھڑے کو کامیاب کروانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے تاکہ تحریک انصاف سویڈن کی قیادت انہیں مل سکیسیاسی عمل میں شمولیت ایک خوش آئند امر ہے اور یہ پاکستان سے محبت کی نشانی ہے لیکن جو لوگ پاکستانی سیاستدانوں پر جماعتیں بدلنے پر تنقید کیا کرتے تھے اور انہیں لوٹے کہتے ہوئے تھکتے نہیں تھے اب خود لوٹے بن گئے ہیں۔ تحریک انصاف کو پاکستان میں کامیابی ملتے ہیں یہاں سویڈن میں جو کل تک عمران خان اور تحریک انصاف پرسخت تنقید کرتے تھے لیکن آج اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ یا اللہ یہ کیا ہورہا ہے۔ ایسے لوگ مفاد پرست اور فصلی بٹیرے ہوتے ہیں اور کبھی کسی جماعت کے ساتھ مخلص نہیں ہوتے۔ کل کو خدا نہ کرے اگر تحریک انصاف پر برا وقت آیا تو یہی سب سے پہلے پارٹی چھوڑنے والے ہوں گے۔ کوئی سمجھائے کہ ایسے ابن الوقت اور مفاد پرستوں سے تحریک انصاف کو کیا فائدہ ہو گا۔ جہاں تک پاکستان میں اپنی پسند کی جماعت کے لیے رکنیت سازی اور جماعتی سرگرمیوں کا تعلق ہے، آپ ضرور کریں لیکن اصول اور معیار کو مد نظر رکھیں۔ آپ پاکستانی سیاست میں حصہ لیں لیکن جس ملک میں رہ رہے ہیں وہاں کے حالات سے بھی تو آگاہی اور دلچسپی رکھیں۔ پاکستان سے محبت ایک فطری امر ہے اور یہ ہونا بھی چاہیے۔ پاکستان سے محبت کا بہترین طریقہ یہ ہے اس کی تعمیر نو، ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کیا جائے جس کا بہترین طریقہ وہاں کے فلاحی اداروں کے ساتھ تعاون ہے۔ وہاں کے ضروت مندوں کی مدد کی جائے اور اس کے ساتھ ہی سویڈن میں اچھے شہری بن کر پاکستان کا نام روشن کیا جائے۔ پاکستان ہمارا وطن اول ہے تو سویڈن بھی دیار غیر نہیں بلکہ دوسرا وطن ہے جسے میں ہمیشہ وطن ثانی کہتا ہوں۔ دونوں کے ساتھ محبت کا جذبہ ہونا چاہیے۔ پاکستان ہمارا درخشاں ماضی تھا تو سویڈن ہمارا حال اور مستقبل ہے۔ ہمارا اور ہماری آنے والی نسلوں کا مرنا جینا، فائدہ اور نقصان سویڈن سے ہی وابستہ ہے اس لیے ہمیں اسے اپنا مادر وطن سمجھ کر یہاں رہنا چاہیے۔سویڈش لوگ اور سیاسی جماعتیں بھی گلہ کرتی ہیں کہ غیر ملکی پس منظر رکھنے والے یہاں کے انتخابات میں ووٹ کم ڈالتے ہیں۔ ہمیں اس رجحان کو بدلنا پے اور اپنے دوست احباب کو بھی راغب کریں کہ وہ ان انتخابات میں اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں۔ سویڈن کی تمام سیاسی جماعتوں کی ویب سائیٹ موجود ہیں جہاں ان کا منشور انگریزی اور کئی ایک کا تو اردو میں بھی موجود ہے۔ سویڈش ریڈیو کی ویب سائیٹ میں انگریزی حصہ میں تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے انگریزی میں انٹرویو موجود ہیں جنہیں سن کر آپ یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کس جماعت کا منشور اچھا ہے۔ سویڈش ریڈیو کا لنک یہ ہے

 
Swedish Party Leaders Interviews
https://sverigesradio.se/sida/gruppsida.aspx?programid=2054&grupp=27436


سویڈش ٹی وی SVT, TV4 اور اخبارات میں ایک سوال نامہ موجود ہے جن کے جواب دینے سے آپ کو اس سیاسی جماعت کا علم ہو جائے گا جو آپ کے دل کی آواز ہونی چاہیے۔ آپ کی سہولت کے یہ رہا لنک، اس پر جائیں اور اپنی پسند کی جامعت اور امیدوار کے بارے میں آگاہی حاصل کریں۔


https://valkompassen.svt.se


برائے کرم اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں اور اس سے ہم انتہا اور تعصب پسند جماعت کا سویڈش پارلیمنٹ میں داخلہ روک سکتے ہیں۔اگر ہم ووٹ نہیں دیں گے تو انتہا پسند پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرسکتے ہیں جس کا ہم سب کو بہت نقصان ہو گا۔ اپنا ووٹ ضرور دیں چاہیے جسے مرضی دیں۔ آپ ابھی سے لائبریریوں اور دیگر مقامات پر جا کر اپنا ووٹ دے سکتے ہیں یا پھر الیکشن کے دن 9 ستمبر کو ووٹ ڈالنے اپنے پولنگ اسٹیشن جائیں۔ ہمیں اس نظام کو مضبوط کرنا جہاں ہم رہتے ہیں اور جس سے ہمارا مفاد وابستہ ہے کیونکہ 
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں 

23 Aug 2018


Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)