مستقبل سکول سے شروع ہوتا ہے

پاکستان کے نظام تعلیم کے بارے میں اکثر گفتگو اور میڈیا میں اظہار خیال ہوتا رہتا ہے۔ تعلیمی مسائل اور کارکردگی کے بارے ماہرین سے لے کرعام آدمی تک سب اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کرتے رہتے ہیں۔ جن لوگوں کو دنیا کے دیگر ممالک میں جانے اور وہاں تعلیم و تدریس کا موقع ملا ہو ، وہ تقابلی جائزہ لے کر نظام تعلیم کی اصلاح کے بارے میں اپنی تجاویز پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کے نظام تعلیم کا بنیادی مسئلہ تدریسی نظام کی بنیاد یعنی سکول سسٹم کی خرابی ہے۔ سویڈن جو کہ اعلٰی تعلیم میں دنیا میں نمایاں مقام رکھتا ہے اور اس کی تین جامعات دنیا کی ایک سو بہترین یونیوسٹیوں میں شامل ہے ۔ طب، انجئیرنگ اور دوسرے شعبوں میں اعلٰی تعلیم وتحقیق کے لیے دنیا بھر سے طالب علم یہاں کا رخ کرتے ہیں لیکن یہ پھر بھی یہ اپنے سکولوں کی تعلیم پر زیادہ توجہ دے رہا ہے اور موجودہ حکومت نے سکولوں کے لیے ایک خطیر اضافی رقم مختص کی ہے۔ سویڈش وزیراعظم نے اس مقصد کے لیے ایک قومی پلان دیا ہے کہ ملک کا مستقبل سکول سے شروع ہوتا ہے۔ مجھے پاکستان اور سویڈن دونوں کے تعلیم ادروں سے تحصیل علم کا موقع ملا ہے اور میرے خیال میں بھی پاکستان میں سکول کے نظام تعلیم کو بہت بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ جن بچوں کی سکول سے بنیاد مضبوط ہوگی انہیں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں مشکلات پیش نہیں آئیں گی۔ 

اس وقت سویڈن کے ہمسایہ ملک فن لینڈ کا سکول سسٹم دنیا بھر میں بہترین قرار دیا گیا ہے۔ سویڈن اور فن لینڈ کا سکولوں کا نظام تعلیم تقریباََ ایک جیسا ہے۔ یہاں بچے سات سال کی عمر میں سکول شروع کرتے ہیں۔ نظام تعلم کی سو فی صد ذمہ داری حکومت پر ہے اور نجی سکول بہت ہی کم ہیں اور جو ہیں وہ بھی حکومتی سرپرستی اور مالی امداد پر ہیں اس لیے سرکاری اور نجی سکولوں میں کوئی خاص فرق نہیں بلکہ عوام کی غالب اکثریت سرکاری سکولوں کو ترجیح دیتی ہے۔ بچوں کو کتابیں، کاپیاں، پینسلیں اور دوسری تمام چیزیں مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سکولوں میں بچوں کو دوپہر کا کھانا مفت ملتا ہے۔ نہ بچوں پر غیر ضروری مضامین کا بوجھ نہیں لادا جاتا ہے اور نہ ہی انہیں چھٹیوں کا لکھنے کے لیے کام دیا جاتا ہے بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ وہ خوب مزے کریں البتہ مطالعہ ضرور کریں۔ ہر بچے کی انفرادی جانچ پڑتال ہوتی ہے اور ہرسال نہ سالانہ امتحانات ہوتے ہیں اور ہی اول دوم سوم آنے والوں کا اعلان ہوتا ہے۔ تعلیم میدان میں کمزور بچوں کو سکول کی جانب سے مفت ٹیوشن پڑھائی جاتی ہے۔ہر جماعت اور مضمون کے لیے محکمہ تعلیم نے ایک نصاب بنایا ہوا ہے جس پرسکول عمل کرتے ہیں۔ ملک میں ایک ہی طرح کے سکول ہیں اور محمود وایاز کے بچے ایک ہی صف میں بیٹھے علم حاصل کرتے ہیں۔ اساتذہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور معاشرہ میں قابل عزت مقام کے حامل ہیں۔ اساتذہ کی تعلیم و ترقی کے لیے بھی ایک منصوبہ ہوتا ہے تاکہ وہ مزید موثر انداز میں بچوں کو پڑھا سکیں۔

پاکستان اور سویڈن کے سکول کے نظام تعلیم میں جو سب سے بڑا فرق مجھے نظر آیا ہے وہ یہ کہ سویڈن میں بچوں کی تخلیقی صلاحتیں اجگر کی جاتی ہیں۔ کسی بچے کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا، اُس کی عزت نفس کا خیال رکھا جاتا ہے اور اس کی شخصیت کو مزید نشوونما دی جاتی ہے۔ انہیں سوچنے سمجھنے اور معلومات حاصل کرکے انہیں اپنے الفاظ میں بیان کرنے کا انداز اپنایا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں اس کے برعکس ہے اور بچوں کو رٹا لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ دوسرا فرق یہ کہ سویڈن بلکہ پوری دنیا میں ذریعہ تعلیم مقامی زبان ہے لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے جس وجہ سے بچے ساری عمر مشکل میں پھنسے رہتے ہیں۔ یہاں سویڈن میں تارکین وطن کے بچوں کو حکومت کی طرف سے ان کی مادری زبان سکولوں میں پڑھائی جاتی ہے اورتاکید کی جاتی ہے کہ بچوں کے ساتھ گھروں میں مادر ی زبان میں ہی بات کریں تاکہ ان کی صلاحتیں بہتر نشو ونما پاسکیں اوراس طرح وہ دوسری زبانیں اور علوم بہتر سیکھ سکیں گے۔ انگریزی دوسری اور پانچویں جماعت سے کوئی ایک یورپی زبان پڑھائی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پانچ سال بعد بچہ متعلقہ یورپی زبان میں لکھنے پڑھنے کے علاوہ بات چیت کرنے کے قابل ہوجاتا ہے مگر سوچنے کا مقام ہے کہ پاکستان میں بچے پانچ سال سکول میں عربی پڑھتے ہیں لیکن وہ میٹرک کے بعد عربی کے پانچ جملے بھی نہیں بول سکتے۔ کیوں؟ چلیں عربی کو ایک طرف رہنے دیں انگریزی جو کہ اب ہمارے سکولوں کا ذریعہ تعلیم بن چکا ہے اور دس سال تک بچوں کو اسی میں تعلیم دی جاتی ہے مگر میٹرک کے بعد بھی طالب علم کیوں انگریزی میں اعتماد کے ساتھ بات نہیں کرسکتے جو یہاں کے طالب علم کرسکتے ہیں ۔ اگر کسی بچے کو کہا جائے کہ کسی موضوع پر دو صفحات لکھو تو یہ اس کے لیے ممکن ہی نہیں ہوگا۔ وجہ ناقص نظام تعلیم اور رٹا لگانے پر زور ہے کیونکہ جو رٹا لگا لے اچھے نمبر حاصل کرلے گا۔ سویڈن سے ہمارے ایک دوست نے اپنے بچوں کو پاکستان منتقل کردیا اور وہاں ایک نجی تعلیم ادارے میں داخل کروایا جو پاکستان میں بہترین تصور کیا جاتا ہے لیکن بچوں نے چند ہی ماہ بعد وہاں کے نظام تعلیم سے بے زاری کا اظہار کردیااور واپس سویڈن چلے آئے۔ میرے پوچھنے پر بچوں نے بتایا کہ وہاں رٹا لگاکر جواب نہ دیا جائے تو استاد فیل کردیتے ہیں اور اگر اپنے الفاظ میں کوئی جواب دیا جائے توکہتے ہیں کہ تم قائد اعظم بننے کی کوشش نہ کرو۔وہاں بڑی فیس لینے والے نجی سکولوں میں بھی انگریزی اردو میڈیم میں پڑھائی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ کہ بچوں کو نہ اردو میڈیم رہا نہ انگریزی بلکہ دونوں زبانوں کا ملغوبہ بن گیا ہے۔

پاکستان نے اگر ترقی کرنی ہے تو سکول کے سسٹم کو بہتر کرنا ہوگا۔ اعلٰٰی تعلیم یافتہ استاد جنہیں اچھی تنخواہ دی جائیں اور بچوں کو تعلیمی سہولتیں دینا ہوں گی۔ رٹا لگانے کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی اور بچوں کو اپنے الفاظ میں جواب دینے کی تربیت دی جائے۔ ذریعہ تعلیم مقامی زبان ہونا چاہیے۔ سب سے بڑھ کر پورے ملک میں ایک طرح کا نظام تعلم اور ایک جیسے سکول ہوں جن میں بالا دست طبقہ اور عام عوام کے بچے ایک ساتھ حصول تعلیم میں مصروف ہوں۔ جب تک اس طرف نہیں سوچاجائے گا ملک ترقی نہیں کرسکے گا۔ قوموں کی ترقی تعلیم سے ہوتی ہے عمارتیں کھڑی کرنے سے نہیں۔ شائد ارباب اختیار اس حقیقت کو سمجھ لیں۔

18 May 2015


Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)