پاکستان ، سویڈن سے بہت کچھ سیکھ سکتا تھا

سوری مسٹر بھٹو، آپ کو انتظار کی زحمت اٹھانا پڑی در اصل مجھے اپنی گاڑی کی پارکنگ تلاش کرنے میں تھوڑی دیر ہوگئی۔سویڈش وزیراعظم اولف پالمے کے یہ الفاظ سُن کر وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو حیریت ذدہ ہوگئے۔ وہ اپنے سویڈن کے دورہ کے آغاز پر سٹاک ہوم کے ہوائی اڈہ پرپاکستانی وفد کے ساتھ اپنے میزبان کے منتظر تھے۔ بھٹو اولف پالمے سے بہت متاثر تھے اور سویڈن نے دنیا بھر میں حقوق انسانی ، امن پسندی، رواداری، انصاف اور جمہوریت کے لیے جو خدمات سرانجام دیں تھیں وہ انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور پاکستان کو ویسی ہی فلاحی ریاست بنانے کے خواہش مند تھے۔ وہ ۲۰ فروری ۱۹۷۶ء کو ایک سو پانچ افراد پر مشتمل بھاری بھر کم وفد لے کر سویڈن کی سرزمین پہنچ گئے جن میں وزراء ، اراکین اسمبلی کے ساتھ ضیاء محی الدین کی معیت میں ایک ثقافتی طائفہ بھی شامل تھا۔ گویا سرکاری وفد نہ ہوا ایک بارات ہوئی۔ میزبان ملک نے صرف بیس مہمانوں کا بوجھ برداشت کرنے کا فیصلہ سُنایا جبکہ باقی پچاسی افراد کے اخراجات حکومت پاکستان نے ادا کیے۔ سٹاک ہوم کے ائرپورٹ سے شہر جانے کے لیے وفد کے کچھ اراکین کو لیموزین گاڑیوں سے لی جایا گیا اور باقیوں کے لیے پر آسائش بسوں کا انتظام کیا گیا مگر اس لنکا میں سبھی باون گز کے تھے اور انہوں نے بسوں میں سفر کرنے سے انکار کردیا اور اپنے لیے بھی لیموزین کا مطالبہ کیا کیونکہ بسوں میں سفر کرنا اُن کے شیان شان نہ تھا حالانکہ میزبان ملک کے وزراء پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ میزبان ملک نے صاف انکار کردیا تو کیا ہوا حکومت پاکستان کا سرکاری خزانہ کس لیے ہے ، سب مہمانوں کو لیموزین گاڑیوں سے سویڈن کے مہنگے ترین ہوٹل گرینڈ میں ٹھہرایا گیا۔ تین دن تک لیموزین گاڑیاں مہمانوں کے لیے موجود رہیں تاکہ انہیں سیر سپاٹے میں دقت نہ ہو۔ پی آئی اے کا خصوصی جہاز تین دن سٹاک ہوم کے ائرپورٹ پر بے کار کھڑا رہا جس کی اگلی منزل وفد کے ساتھ کینیڈا تھی۔ یہ اُس وفد کی صورت حال ہے جو امداد لینے سویڈن آیا تھا اور جسے بعد میں سویڈش صحافیوں کے سخت سوالات کو سامنا کرناپڑا۔ دورہ کے اختتام پرپریس کانفرس میں وزریر خارجہ عزیر احمد اور دوسرے اراکین بھٹو کے ساتھ موجود تھے اور جب ایک سویڈش صحافی نے سوال کیا کہ ایک امداد لینے والے ملک کو اتنے بڑے وفد کے ساتھ یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی جس پر دس لاکھ سویڈش کرونا خرچ ہوئے تو جواب دیا گیا کہ ان لوگوں کو سویڈش حکومت کی کارکردگی اور طریقہ کار سے روشناس کروانا ہے تاکہ وہ یہی انداز پاکستان میں اختیار کرتے ہوئے ملک کو ترقی یافتہ بناسکیں۔اس پر جب ایک اور صحافی نے پوچھا کہ کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ چند سویڈش ماہرین کو اسلام آباد بلوا لیا جاتا اور وہاں ساری تفصیلات معلوم کرلی جاتیں تو بھٹو جیسازیرک اور حاضر جواب شخص بھی لاجواب ہوگیا۔
نے نظیر بھٹو بھی سویڈن کے دورہ پر تشریف لائیں لیکن اُن کا وفد اپنے والد سے چھوٹا تھا اور اُس میں صرف ستر افراد شامل تھے لیکن اُس وفد نے بھی گرینڈ ہوٹل میں قیام کیا اوردورے کا خرچ بھی کسی طور کم نہ تھا غریب ملک کے رہنماؤں نے حلوائی کی دوکان پر نانا جان کی فاتحہ دینے کی روایت برقرار رکھی۔ اپنے دورہ کے اختتام پر بے نظیر بھٹو نے بھی کہا کہ وہ سویڈن میں سماجی بہبود کے نظام سے بہت متاثر ہیں بطور خاص بچے کی پیدائش پر ماں اور باپ کو ایک سال سے زائد کام سے چھٹی ملنے کو انہوں نے بہت سراہا اور کہا کہ وہ پاکستان میں بھی اسی طرح کا نظام ہونا چاہیے۔ سویڈ ن کا دورہ تو پرویز مشرف نے بھی کیا اور وہ جولائی ۲۰۰۷ء میں آئے اور سویڈن سے دفاعی آلات اور فضائی نگرانی کا نظام لینے کے معاملات طے کرکے گئے۔
اتنے دوروں کے بعد بھی پاکستان نے سویڈن سے کچھ نہیں سیکھا۔ ایک وقت تھا سویڈن بہت غریب ملک تھا اور یہاں کے ہزاروں لوگ نقل مکانی کرکے امریکہ چلے گئے تھے لیکن انہوں نے اپنے حالات بدلنے کا عزم کیا۔ ۱۴ اگست ۱۸۱۹ء میں سویڈن نے اپنی آخری جنگ لڑی اور دو عالمگیر جنگوں میں اپنے ملک کو بارود اور آگ کے شعلوں سے بچائے رکھا ۔ ہماری طرح نہیں کہ ہر پرائی لڑائی کو اپنے سر ایسا لیا کہ اب جان چھڑانا مشکل ہے۔ سویڈن نے غربت ، جہالت اور عدم مساوات کو اپنا اصل دشمن قرار دیتے ہوئے اُس کے خلاف جنگ لڑی۔ جدید سویڈن کی تعمیر کرنے والوں کو یقین تھا کہ جمہوریت اُسی صورت میں قائم ہوسکتی ہے جب تک انصاف، مساوات، سماجی بہبو د اور قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوجاتی۔ قانون کی حکمرانی کے لیے چند مثالیں ہی کافی ہیں۔ ایک دفعہ وزیراعظم کو بس کی مخصوص سٹرک پرگاڑی چلانے پر ایک عام کانسٹیبل نے چلان کردیا۔ موجودہ وزیراعظم فریڈرک رائن فیلڈ کے والد کو شراب پی کر گاڑی چلانے کے شبہ میں پولیس نے ضابط کی پوری کاروائی کی اور وزیراعظم خاموش رہے۔ نائب وزیراعظم مونا سیلن کو بہت معمولی سرکاری رقوم صرف وقتی طور پر ذاتی استعمال میں لانے پر وزیر اعظم بننے کا راستہ بند ہو گیا حالانکہ وہ رقم اس نے جلد ہی واپس بھی کردی تھی۔ ایک کاؤنٹی کے گورنر کو اپنے ہی آفس میں غلط جگہ پر گاڑی کھڑی کرنے پر جرنامہ کردیا گیا۔۱۹۹۴ء میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑنے اپنے ہم منصب سویڈش جنرل کو تین بہت قیمتی گھوڑے سویڈن ارسال کیے مگر قانون کے مطابق سویڈن میں ایشیا سے گھوڑے درآمد نہیں کیے جاسکتے تھے لہذا ایک ویٹرینری ڈاکٹر کے فیصلہ پر انہیں گولی ماردی گئی اور سویڈش جنرل کچھ نہ کرسکا۔ اسی ماہ ستمبر ۲۰۱۴ء میں سویڈن کے بادشاہ کی گاڑی کو ائیرپورٹ جاتے ہوئے حادثہ پیش آیا تو نہ تو کوئی افسر معطل ہوا اور نہ کسی کو نوکری نکالا گیا بلکہ بادشاہ کسی اور گاڑی میں بیٹھ کر ائرپورٹ چلے گئے۔ سویڈش وزیر اعظم اولوف پالمے اور وزیر خارجہ انا لند کے قتل کے بعد بھی وزیر اعظم اور وزراء کے ساتھ پروٹوکول کی گاڑیاں نہیں ہوتی ہیں۔
حالیہ انتخابات میں حکمران اتحاد کو شکست کے بعد وزیر اعظم نے اپنے منصب اور جماعت کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا اور حزب اختلاف کی جماعت سوشل ڈیموکریٹ کو حکومت سازی کی دعوت دی اور لوٹا کریسی، جوڑ توڑ، فارورڈ بلاک اور انتخابی دھاندلیوں کی راہ نہیں اپنائی گئی۔ حکومت اورحزب مخالف نے اس بار بھی توازن کا مقام رکھنے والی نسل پرست جماعت سویڈش ڈیموکریٹ کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگر پاکستان کی سیاست میں بھی ذمہ دار سیاسی جماعتیں یہ فیصلہ کر لیتیں کہ فرقہ، رنگ و نسل اور تعصب کی بنیاد پر بننے والی کسی جماعت تعاون نہیں کریں گے تو ممکن ہے کہ آج صورت حال مختلف ہوتی۔بھٹوو اور بے نظیر دونوں سویڈش وزیر اعظم پالمے کی بہت مداح تھیں اور یہ اتفاق ہے کہ تینوں طبعی موت نہ مرے۔ لیکن سٹاک ہوم شہر میں ۲۸ فروری ۱۹۸۶ء کو جہاں اولوف پالمے کو قتل کیا گیا وہاں فٹ پاتھ پر ایک دھاتی پلیٹ نصب ہے جیسے کسی مین ہول کا ڈھکن ہو اور پیدل چلنے والے ہرروز اُس کے اوپر سے گذرتے ہیں جس پر لکھا گیاہے کہ یہاں پالمے کو قتل گیا گیا۔ساتھ قبرستان میں ایک عام سی قبر میں وہ مدفون ہے جبکہ ہمارے غریب عوام کے رہنماؤں کے مقبرے اور یادگاریں اس فرق کو واضح کرتی ہیں۔ ہماری یونیوسٹیوں کی عمارتیں تو سویڈن کی جامعات سے کہیں بڑی اور بلند و بالا ہوسکتی ہیں لیکن سویڈن کی چھ جامعات دنیا کی پہلی دو سو بہترین یونیورسٹیوں میں شامل ہیں لیکن پاکستان کی ایک بھی یونیورسٹی اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔ قوموں کی تعمیر تعلیم و افکار سے ہوتی ہے عمارتوں سے نہیں اور بقا صرف اسے ہے جو انسانی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے جیسا کہ قرآن حکیم نے عادو ثمود کی تباہی کا واقعہ بتاتے ہوئے کہا ہے اور جسے حکیم الامت نے یوں سمجھایا ہے کہ
جہاں تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود     کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا                            

22 Jun 2014


Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)