سویڈن میں پاکستانی سفارت خانہ میں عید میلاد النبی ﷺ

سٹاک ہوم (رپورٹ: عارف کسانہ) سویڈن میں پاکستانی سفارت خانہ میں عید میلاد النبی ﷺ کے سلسلہ میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔سفارت خانہ پاکستان ہر سال عید میلاد النبیؐ کے موقع پر ایسی تقریب منعقد کرتا ہے۔ اس تقریب کا آغاز محمد ابراھیم کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا جس کے بعدرجب علی خان نے نعت رسول مقبول پیش کی۔ سفارت خانہ کے منسٹر جناب نجیب درانی نے نظامت کے فرائض سرانجام دیئے۔ انہوں نے کہا کہ حسن اتفاق سے اس سال عید میلاد النبیؐ اور حضرت عیسیٰ کا یوم ولادت ااکھٹے آئے ہیں اور بانی پاکستان قائداعظم کا یوم پیدائش کا بھی ساتھ ہی آیا ہے اس لیے یہ تقریب نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عید میلاد النبی ؐ کے موقع پر ہمیں رسول اکرمؐ کے اسوہ حسنہ پر چلنے کا عزم کرنا چاہیے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصنف، محقق اور صحافی ایمانویل لوتھر راتق نے کہا کہ دنیا میں بہت سے مذہب ہیں لیکن جو قدر مشترک اسلام اور عیسائیت میں ہے وہ کسی مذہب میں نہیں۔ یہ دونوں مذہب ایک ہی خطہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ملت ابراھیم پر ہیں۔ قرآن حکیم میں حضرت عیسیٰ ؑ کا ذکر اسی سے زائد بار آیا ہے۔ قرآن حکیم نے یہود اور مسیحیوں کو مشرکین سے الگ کرکے اہل کتاب میں شمار کیا ہے۔ اسلام نے اہل کتاب کے گھروں سے کھانا حلال قرار دیا ہے۔ رسول پاک نے عیسائی وفد کو مسجد نبوی میں عبادت کی بھی اجازت دی۔ایمانویل راتق نے قرآن حکیم اور احادیث سے حوالے دیتے ہوے کہا کہ اسلام امن کا دین ہے اور موجودہ دور میں مسلمانوں اور مسیحیوں کو مل کر دنیا میں امن اور سلامتی کے لیے کام کرنا ہوگا۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے کہا کہ اپنے ہمسائے سے پیار کرو۔ اسلام بھی ہمسائے کے حقوق کی تعلیم دیتا ہے جس سے معاشرے میں بھائی چارے کو فروغ ملتا ہے۔ بانی پاکستان نے اپنے تاریخی خطاب میں کہا کہ ہم سب پاکستانی ہیں۔ مسٹر راتق نے سفیر پاکستان طارق ضمیر کی اس کوشش کو سراہا جس میں انہوں نے دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی تقریب میں شریک کیا اور حضرت عیسیٰ ؑ کی ولادت کو بھی تقریب کا حصہ بنایا۔ علامہ ذاکر حسین نے کہا کہ یہ بہت مبارک موقع ہے کہ عیدمیلاد النبیؐ اور حضرت عیسیٰ ؑ کی ولادت کی مشترکہ تقریب منعقد ی جارہی ہے اور یہ سفیر پاکستان کا بہت اچھا قدم ہے۔ انہوں نے حضورپاک کی ولادت کے حوالے سے خطاب کیا اور کہا کہ بعث رسول کا مقصد اخلاق کی تعمیر تھا۔ مسلمان اپنے کرادر اور اخلاق سے دوسروں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ عید میلاد النبی کے موقع پرہمیں اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے اور اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ رسول پاک ؐ نے ہمیں کیا تعلیمات دی ہیں۔ انہوں نے کہا حضورؐ کی زندگی قرآن حکیم کا عملی اظہار تھا جیسا کہ حضرت عائشہ سے ایک روایت ہے۔ یورپ میں مقیم اہل اسلام پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اچھے کردار سے مقامی لوگوں کو متاثر کریں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عارف محمود کسانہ نے کہا کہ حضور ؐ صرف مسلمانوں نے لیے رحمت نہیں بلکہ تمام جہانوں کے لیے رحمت ہیں اس لیے ہمیں عید میلاد النبی کے تقریبات کو صرف مسلمانوں تک محدود نہیں کرنا چاہیے اور آج کی تقریب اس سمت میں اہم پیش رفت ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن میں اپنے بہت سے رسولوں کی ولادت کا تذکرہ کیا ہے اور حضرت یحییٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کی ولادت کے دن پر سلام بھیجا ہے اسی مناسبت سے سید الانبیاء کی ودلات کو دن منانا اور سلام بھیجنا قرآنی تعلیمات کے مطابق ہے۔ مقصد رسالت تذکیہ نفس اور نظام کا قیام تھا جسے رسول پاکؐ نے عملی طور پر کرکے دیکھایا۔ رسول پاکؐ اور حضرت عیسیٰ ؑکی تعلیمات اور جدوجہد توحید، عدل، ظلم اور غلامی کے خاتمہ کے لیے تھی۔ قائد اعظم اور علامہ اقبال انہی تعلیمات کے پیامبر تھے۔ قائد اعظم نے قیام پاکستان کے بعد عید میلاد النبیؐ کے جلسہ میں اہم خطاب کیا جبکہ علامہ اقبال نے کئی بار عید میلاد النبی ؐ کے جلسے اور جلوسوں میں شرکت کی۔ ۷۲۹۱ء میں لاہور میں عید میلاد النبیؐ کے جلسہ میں انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عید میلاد کا دن اہم ملی اور مقدس دن ہے اور ہمیں رسول پاک کے اخلاق اپنانے چاہیے۔ سفیر پاکستان جناب طارق ضمیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اکثر عید میلاد النبیؐ کی تقریبات میں شرکت کا موقع ملتا رہتا ہے لیکن آج کی یہ تقریب منفرد ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول پاک ؐ سے محبت کا تقاضا اچھے اخلاق کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔ انہوں قرآن حکیم کی آیات کے روشنی میں اسلام کی امن اور انسان دوستی کی تعلیمات کی وضاحت کی۔ بانی پاکستان کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایک اعلیٰ کرادر کے حامل عظیم راہنماء تھے۔ انہوں نے سویڈن میں مقیم پاکستانیوں پر زور دیا کہ کہ مقامی قوانین کا احترام کریں اور کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے اُن کی وجہ سے پاکستان کی عزت پر حرف آئے۔ اپنی ذمہ داریاں اور ٹیکس بروقت ادا کریں اور ایک اچھے شہری کی حیثیت سے رہیں۔ مذہبی رواداری اور برداشت اسلام کی تعلیمات ہیں۔اسلام اور عیسائیت میں بہت سی مشترک قدریں ہیں اور مسلمانوں نے پہلی ہجرت حبشہ کی تھی جہاں کا حکمراان عیسائی تھا۔ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو آپس میں محبت اور رواداری سے رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ چھٹی کا دن نہ ہونے کی وجہ سے بھی لوگ تقریب میں شریک ہوئے ہیں۔ تقریب میں پاکستان میں امن اور سلامتی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔


The News was published in

http://bolinternational.net/archives/44067
http://bolinternational.net/archives/44072
http://bolinternational.net/archives/44075
http://bolinternational.net/archives/44039


http://shanepakistan.com/?p=31136

Daily Ausaf London

http://i1.wp.com/europe.ausaf.pk/wp-content/uploads/2016/01/P2.jpg

Daily Kashmir Express Islamabad
http://www.dailykashmirexpress.com/admin/akhbar/01-01-2015-p5.gif

Urdu Net Japan 
http://urdunetjpn.com/ur/2016/01/01/eid-milaad/



1 Jan 2016


Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)