یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلہ میں سفارت خانہ پاکستان میں منعقد تقریب


اسٹاک ہوم(نمائندہ خصوصی) یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلہ میں سفارت خانہ پاکستان میں منعقد ہونے والی تقریب میں پاکستانی اور کشمیری افراد نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز ابوبکر بٹ کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا اور کاشف بھٹہ نے کشمیر کے بارے میں نظم پیش کی۔ سفارت خانہ کے ڈیپٹی ہیڈ آف مشن عرفان احمد نے نظامت کے فرائض سرانجام دیئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند ہے کہ سخت سردی کے باوجود کثیر تعداد میں لوگ اس تقریب میں شرکت کے لئے آئے ہیں۔ کشمیر کمیٹی سویڈن کے نائب صدر ظفر اقبال چوہدری نے تقریب کے انعقاد پر سفارت خانہ پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ کشمیر کمیٹی سویڈن نے جنرل سیکریٹری سردار تیمور عزیز نے کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی مظالم کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو ختم نہیں کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کمیٹی سویڈن میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے پرعزم ہے اور سویڈش پارلیمنٹ میں کشمیر کے بارے میں قرداد پیش ہونے ایک اہم پیش رفت ہے۔ کشمیر کمیٹی سویڈن کے صدر کونسلر برکت حسین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر عالمی بے حسی قابل مذمت ہے اور دنیا کی امن پسند قوتوں کو کشمیر میں ہونے والے مظالم کا نوٹس لینا چاہیے۔ ہم کشمیر کمیٹی سویڈن کے پلیٹ فارم سے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار اور قابل قبول حل کشمیری عوام، پاکستان اور بھارت تینوں کی منشا کے مطابق ہی ممکن ہے۔ کالم نگار اور مصنف عارف محمود کسانہ نے کہا کہ 14 اگست 1931 میں علامہ اقبال کی قیادت میں سب سے پہلے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لئے لاہور میں تقریب منعقد ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ فروری کا مہینہ پاکستان اور کشمیر دونوں کے لئے بہت اہم ہے۔ 3 فروری کو نقاش پاکستان چوہدری رحمت علی کا یوم وفات ہے جنہوں نے الگ ملک کا منصوبہ پیش کرتے ہوئے پاکستان نام تجویز کیا۔ 11 فروری 1984 میں بھارت نے عظیم کشمیری راہنما مقبول بٹ کو تہاڑ جیل میں پھانسی دے کر یہ سمجھا کہ یہ تحریک اب ختم ہوجائے گی لیکن اس شہادت نے تحریک آزادی میں روح پھونک دی۔ سفیر پاکستان جناب احمد حسین دایو نے کہا کہ دنیا کو مسئلہ کشمیر کی سنگینی کا احساس ہورہا ہے۔ انہوان نے کہا کہ پاکستان میں میں سیاسی استحکام ہے اور حکومت اس مسئلہ کو عالمی سطح پر پیش کرنے کے لئے بھر انداز میں کام کررہی ہے جس کی ایک مثال 5 فروری کو برطانوی پارلیمنٹ میں ہونے والا اہم اجلاس ہے۔ انہوں نے کہ بطور سفیر وہ سویڈن اور فن لینڈ کی حکومتوں اور اہم اداروں کو مسلسل مقبوضہ جموں کشمیر کے حالات سے آگاہ کرتے رہتے ہیں اور وہ اسی جذبہ کے تحت ہمیشہ کام کرتے رہیں گے۔ ہمارے دل اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام آزادی حاصل کرسکیں گے۔ تقریب کے آخر میں جناب عرفان احمد نے کشمیر کی تحریک آزادی میں شہید ہونے والوں کے لئے دعا کروائی۔ تقریب کے شرکاءنے کشمیری عوام کو جدوجہد آزادی میں قربانیاں پیش کرنے پر خراج تحسین پیش کیا اور انہیں یقین دلایا کہ وہ ان کی حمایت جاری رکھیں گے۔

http://epaper.dailyausaf.com/popup.php?newssrc=issues/2019-02-08/73595/e218.gif

http://epaper.dailyausaf.com/popup.php?newssrc=issues/2019-02-08/73595/e219.gif
https://www.dailydastak.com/overseas2019/02/184.php

http://shanepakistan.com/?p=62784


7 Feb 2019


Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)