مسئلہ کشمیر کے حل میں سب بڑی رکاوٹ

کشمیری عوام اپنی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے اور اکثر و بیشتر مسئلہ کشمیرکے حوالے سے گفتگو اور بحث میں اُن عوامل کا ذکر کیا جاتا ہے جو مسئلہ کشمیر کی آزادی میں رکاوٹ ہیں۔ کشمیری عوام خود بھی جاننا چاہتے ہیں چھ دہائیوں سے زائد وقت گذرجانے کے باوجود کیوں آج بھی کشمیر چاراور کشمیری پانچ حصوں میں منقسم ہیں۔ ریاست جموں کشمیر کیوں تاج آزادی نہ پہن سکی اس کی مختلف وجوہات اور عوامل کا ذکر کیا جاتا ہے۔ کوئی اس کی وجہ بھارتی ہٹ دھرمی اور جبر کو قرار دیتا ہے تو کوئی اقوام متحدہ اور عالمی ضمیر کی بے حسی۔ کوئی اسی حکومت پاکستان کی ناقص سفارتی حکمت عملی اور کوئی بین الاقوامی حالات کو اس کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ یہ سب اپنی جگہ پر ٹھیک ہیں لیکن آزادی کشمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ کشمیری قیادت اور خود کشمیری اس کے ذمہ دار ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اندھیرے کو کوسنے کی بجائے اپنے چراغ کو درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تقسیم ہندوستان اور مسئلہ کشمیر کے آغاز سے دور حاضر تک کشمیری قیادت کی کارکردگی کا جائیزہ لیں تو یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ کشمیر کی غلامی کی سب سے بڑی وجہ وہ کشمیری رہنماء ہیں جو منظر عام پر رہے اور جن کی نااہلیوں کا خمیازہ آج بھی کشمیری عوام بھگت رہے ہیں۔ 

برصغیر کی تقسیم کے بعد حد متارکہ کے اس طرف چونکہ صرف مسلم کانفرس ہی کشمیری عوام کی نمائدہ سیاسی جماعت تھی اس لیے ذمہ داری بھی براہ راست اسی جماعت پر عائد ہوتی ہے۔ ٓزادجموں کشمیر کا قیام آزدی کے بیس کیمپ کی حیثیت سے عمل میں لایا گیا لیکن اسے آزادی کا بیس کیمپ بنانے کی بجائے اسے اقتدار کی شرمناک کشمکش کا میدان بنا دیا گیا۔ مسلم کانفرس کے قائدین وزارت امور کشمیر سے وظائف کھانے لگے۔ جنہیں حصول آزادی کے لیے جدوجہد کرنا تھی وہ پلاٹوں، کوٹھیوں اور پرمٹوں کی الاٹمنٹ کے پیچھے بھاگنے لگے۔ اصلی اور جائیز مسلم کانفرس کا تصدیقی سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے لیے وزارت امور کشمیر کے جوائنٹ سیکریٹری کی چاپلوسی شروع ہوگئی۔ چوہدری غلام عباس اور سرادر ابراہیم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے لگے اور پھر سرادر عبدالقیوم بھی میدان میں کود گئے۔ وزارت امور کشمیر جس پر ہاتھ رکھتی وہی اصل مسلم کانفرس قرار پاتی۔ سری نگر اور جموں کی آزادی کا عزم رکھنے والے قائدین مظفر آباد کی بے اختیار کرسی کے حصول کے لیے دست و پا ہونے لگے۔ اب حالات میں کشمیری قوم بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگی۔ جس کو جو ملا جہاں سے ملا سب سمیٹنے لگے۔ مقبوضہ کشمیر کی قیادت بھی بھارتی تسلط کے تحت وہاں کے اقتدار کے لیے آپس میں وسیے ہی لڑنے لگے۔ یہی وہ وجہ ہے کہ جس کا خمیازہ ۶۷ سال گذر جانے کے بعد نہ صرف کشمیری عوام بلکہ برصغیر کے لو گ بھی بھگت رہے ہیں۔

۱۹۴۷ء سے یہی سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ریاست کے تینوں حصوں میں متحرک سیاسی رہنماؤں کا واحد مقصد صرف صرف اقتدار کا حصول ہے چاہے یہ اقتدار انہیں کسی کے ذریعہ بھی ملے۔ماسوائے چند ایک کے آزادکشمیر کے بیشتر رہنماؤں نے حصول اقتدار کے لیے متعددبار اپنی سیاسی وفا داریاں تبدیلیاں اور کئی نے تو ایک ہی جماعت میں ایک سے زائد بار شمولیت اور اخراج کیا۔آج بھی آزادکشمیر میں کوئی نظریاتی سیاسی جماعت فعال نہیں رہی بس وہ رہ گئی ہیں جنہیں ہر قیمت پر صرف اقتدار ملنا چاہیے۔ آزادکشمیر کی کوئی بھی سیاسی جماعت بدلتے ہوئے عالمی اور خطہ کے حالات کے پیش نظر کوئی بھی منصوبہ یا حکمت عملی پیش نہ کرسکے۔ آزادکشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں میں اس پر اتفاق ہے کہ محض بیان بازی پر اکتفا کیا جائے۔ جہاں کشمیری لیڈر شپ میں مفادات کی دوڑ میں لگی ہوئی ہے تو وہاں کشمیری عوام بھی اس میں شامل ہیں۔ وہ اپنے ان سیاسی رہنماؤں کی خوشامند اور آؤ بھگت میں لگے ہوئے اور جو مفاد مل سکتا ہے وہ لے رہے ہیں۔کیا حصول آزادی میں مصروف اقوام ایسا کرتی ہیں۔ یوکے اور یورپ میں مقیم کشمیری عوام کو ہی دیکھیں وہ اپنے انہی رہنماؤں کے استقبال ، خیر مقدم اور جلسوں کی رونق بنتے ہیں۔ وہ اپنے رہنماؤں سے یہ نہیں پوچھتے کہ انہوں نے آزادی کشمیری کے لیے کیا عملی اقدامات کیے ہیں اس کی بجائے وہ انہیں دعوتیں اور نذرانے دیتے ہیں ۔ چارج شیٹ طویل بھی ہوسکتی ہے لیکن باشعور کشمیری اس سے اتفاق کریں گے کہ آزادی کی راہ میں ہمارے رہنماء ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور جب تک یہ ڈرائیونگ سیٹ پر رہیں گے تو آزادی کی منزل دور ہوتی جائے گی۔ کشمیری عوام کو اپنی قیادت کا احتساب کریں اور ایسے رہنماؤں کو مسترد کردیں جن کا مطمۂ نظر اقتدار ہے آزادی نہیں۔

18 May 2015


Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)