افکار تازہ اور سبق آموز کہانیاں

 

میرے لئے یہ امر باعث مست ہے کہ پاکستان پریس کلب بیلجیم کے تحت پہلے کل یورپ اردو ادبی میلہ میں شرکت اور اپنی تصانیف کے بارے میں تعارف پیش کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ سویڈن میں دو دہایوں سے زائد اپنے قیا م کے دوران لکھنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس میدان کارزار میں،سویڈن میں تنہا اردو صحافت کا پرچم بغیر کسی مراعات و ستائش سے اٹھائے ہوئے یہاں مقیم اپنی کمیونیٹی کی نمائدگی کرنے کے ساتھ دنیا بھر میں مقیم اپنے لوگوں کو سویڈن کے بارے میں آگاہی دینے کا طویل سفر اب بھی جاری ہے۔ اخبارات و ٹیلی وژن کے ذریعہ ہر ممکن اور رضا کارانہ فرائض کی انجام دہی اور قارئین و ناظرین کا اعتماد میرے لئے باعث تقویت ہے۔سویڈن کی ڈائری کے بعد ایک طویل عرصے سے افکارِ تازہ کے عنوان سے پاکستان، بھارت ، جموں کشمیر اور دنیا کے مختلف ممالک سے شائع ہونے والے اردو اخبارات و رسائل میں کالم لکھنے کا سلسلہ جاری ہے۔اب روزنامہ اوصاف کے ادارتی صفحہ پر ہر ہفتے افکار تازہ شائع ہورہا ہے۔ انسٹیٹیوٹ آف کشمیر اسٹیڈیز میرپور نے میرے کچھ منتخب کالم ایک کتاب بعنوان افکار تازہ شائع کیے ہیں، جس کی دنیا بھر سے بہت سے اہل علم نے پذیرائی کی اور اپنے تبصرے بھی شائع کیے۔ افکار تازہ کے بعد میری دوسری کتاب بچوں کے لیے اسلامی معلومات پر مبنی، سبق آموز کہانیاں ہے۔ یہ کتاب پاکستان کے بڑے معتبر اشاعتی ادارے ، نیشنل بک فانڈیشن اسلام آباد نے شائع کی ہے اور اس طرح الحمد االلہ سویڈن میں مقیم لکھاریوں میں سے پہلے ادیب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا کہ میری کتاب اِس قومی ادارہ نے شائع کی ہے ۔ نیشنل بک فانڈیشن کی جانب سے اِس کتاب کو شائع کیے جانے کے نتیجے میں اس کتاب کی بچوں کے لیے اہمیت و افادیت کا بھی بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ یہ دونوں کتابیں ایمزون پر بھی شائع ہوئی ہیں جس وجہ سے دنیا بھر میں ان کتابوں کا حصول نہایت آسان ہے۔ ایک مصنف کے لئے اس کی کتابوں کی پذیرائی اور مقبولیت سب سے بڑی خوشی کا باعث ہوتا ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے میرے لئے باعث صد مسرت ہے کہ بچوں کی کہانیوں کی کتاب اور اافکار تازہ کی رونمائی و پذیرائی کی تقاریب آسٹریا، سویڈن، ناروے، ڈنمارک ، ہالینڈ،جاپان اور چین میں منعقد ہو چکی ہیں ۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی میں شعبہ اردو کے طالب علم اسے اپنی پی ایچ ڈی کی تحقیق میں شامل کئے ہوئے ہیں۔ افکار تاز ہ کتاب میں بہت سے اہل علم اور دانشوروں جن میں ڈاکٹر صفدر محمود، طارق اسماعیل ساگر، پروفیسر محمد شریف بقا صدر مجلس اقبال لندن ، غلام صابرچیئرمین اقبال اکیڈمی ڈنمارک اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر غلام حسین کی آراء اور تبصرے شامل ہیں۔ افکار تازہ کی اشاعت کے بعد بہت سے معروف صحافیوں، ادیبوں اور دیگر علمی شخصیات نے اپنے گراں قدر تبصرے بھی کئے ہیں، ان میں مصنف، دانشور اور روزنامہ نوائے وقت کے کالم نگار پروفیسر ڈاکٹر مقصود جعفری، سویڈن میں پاکستان کے سفیر جناب طارق ضمیر، صاحب دیوان شاعر جمیل احسن، ڈنمارک سے معروف صحافی، ادیب اورشاعر جناب نصر ملک ایڈیٹر اردو ہم عصر ،کالم نگار انجنئیر افتخاراحمد چوہدری، روزنامہ اوصاف لندن کے کالم نگار عبدالرحمن باگڑی، ناروے سے ادبی تنظیم دریچہ کے صدر ڈاکٹر ندیم حسین، محمد ادریس، احسان شیخ ، ایڈیٹر کاروان سید مجاہد علی، ہالینڈ سے معروف صحافی راجہ فاروق، آسٹریا سے مصنف اور صحافی پروفیسر شوکت مسرت اعوان، چوہدری محمدفاروق، اردو نیٹ جاپان کے مدیر اور مصنف ناصر ناکا گاوا، چین میں پاکستانی سفارت خانہ کے قونصلر جناب شوذب عباس ، قونصلر جناب شاہد مقصود، تعلیمی اتاشی جناب نوید حسن خان اور روزنامہ جنگ کے کالم نگار محسن پاکستان جناب ڈاکٹر عبدالقدیر شامل ہیں۔ افکار تازہ میں انسانی زندگی کے اہم موضوعات پر باسٹھ تحریریں قارئین کی دلچسپی کا باعث ہیں۔ سائنس، مذہب، سماجی امور، تعلیم، عورتوں کے مسائل، ادب، یورپ میں مقیم تارکین وطن کے مسائل، اقلیتوں کے حقوق، تخلیق کائنات، تحریک پاکستان، جدوجہد آزادی کشمیر، فکر اقبال، عالمی امور، دہشت گردی، ماحولیات، اردو ادب اور بہت سے دیگر موضوعات ایک ہی کتاب میں شامل ہونا افکار تازہ کی انفرادیت ہے اور اس میں گھر کے ہر فرد کی دلچسپی کے لئے کوئی نہ کوئی تحریر موجودہے۔قارئین اس کے مطالعہ کے بعد خو د ہی یہ فیصلہ کرسکتے ہیں ۔
بچوں کے لیے لکھی گئی اسلامی معلومات پر مبنی کتاب سبق آموز کہانیا ں نیشنل بک فانڈیشن اسلام آباد نے شائع کی ہے۔ یہی کتاب قدرے مختلف عنوان دلچسپ اور انوکھی کہانیاں کو ایمزون نے بھی شائع کیا ہے۔ بہت مبصرین نے اسے بچوں کے لیے ایک علمی و معلوماتی خزانہ قرار دیتے ہوئے اسے کو سراہا ہے۔ یہ کتاب ان سوالوں کے جوابات پرمشتمل ہے جو یورپ میں پروان چڑھنے ، اردو بولنے پڑھنے والے بچوں کے ذہنوں میں ابھرتے ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کے عصر حاضر میں انہوں اپنے ہم مکتب یورپی دوستوں کی جانب سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان کے دین وثقافت اور قومیت کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں ۔ بچوں کے ذہنوں میں طرح طرح کے سوال آتے رہتے ہیں اور وہ ان کے جواب چاہتے ہیں۔ معصوم ذہنوں میں آنے والے سوال ہوتے تو بہت چھوٹے اور سادہ ہیں لیکن ان کے جواب بعض اوقات اتنے بھی آسان نہیں ہوتے ۔لیکن اس بات کی ضرورت ہے کہ ان کے ذہن میں اٹھنے والے سوالوں کے ایسے جواب دیئے جائیں کہ وہ مطمئن ہوجائیں۔ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق ایسا جواب دیں کہ ان کی تسلی ہوجائے۔ا س کتاب کا بڑامقصد یہ ہے کہ بچے جو مستقبل کے معمار ہیں ان کی تعلیم و تربیت اس اندازسے کی جائے کہ وہ سچے مسلمان، اچھے انسان، محب وطن اور باوقار شہری بنیں ۔ان کے ذہن میں کوئی الجھن نہ ہو۔ وہ اپنے دل اور دماغ کے اطمینان کے ساتھ اپنے دین کی تعلیمات کو سمجھیں اور ان پر عمل کرکے اپنی زندگی بسر کریں۔ یہ کہانیاں اس انداز سے لکھی گئی ہیں کہ بچے انہیں دلچسپی سے پڑھیں ۔ ان کہانیوں میں مختلف ممالک اور شہروں کی بھی کچھ تفصیل موجودہے تاکہ بچوں کے علم میں اضافہ ہو اور ان میں آگے بڑھنے کا جذبہ بھی پیدا ہو۔اس کتا ب میں سویڈن مین پاکستان کے سفیر محترم طارق ضمیر ، جناب نصر ملک اور پروفیسر محمد شریف بقاکے تبصرے اور بچوں کے ادب کے بارے ان کی اہم تحریریں شامل ہیں۔
اردو ہم عصر ڈنمارک کی نائب مدیرہ ہما نصر ملک نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ بچوں کے لیے کسی مخصوص سوچ و فکر اور نظریے کے تحت ادب تخلیق کرنا بہت ہی کٹھن ہے ۔ اور خاص کراِس دور پر آشوب میں یہ کام تو اور بھی مشکل ہے ۔ لیکن ڈاکٹر عارف محمود کسانہ نے بچوں کی صالح تربیت کے لیے جو کہانیاں تخلیق کی ہیں انہیں پڑھ کر بلاخوفِ تردید یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ وہ یورپ میں پروان چڑھنے والے پاکستانی النسل بچوں کے لیے قلبی محبت سے سرشار ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ بچے ہر قسم کی فرقہ بندی، رنگ و نسل اور ذات برادری سے ہٹ کی ایک مضبوط قومی جذبے اورخالص اسلامی اصولوں پر مبنی طرز حیات اختیار کریں ۔ ان کہانیوں میں جس طرح قرآن و سنت کو بنیاد بناتے ہوئے، عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل کے آسان ترین جوابات دیتے ہوئے بے حد سلیس و سادہ زبان میں بطور مثال یوں پیش کیا گیا ہے کہ بچوں کے لیے انہیں ذہن نشین رکھنا بہت ہی آسان ہے ۔ اور یہی ان کہانیوں کی کامیابی ہے ۔ یہ کتاب بچوں کے لیے بیحد مفید اور سبق آموز ثابت ہو گی اور ڈاکٹر عارف محمود کسانہ کی اِس کوشش کو سراہا جائے گا ۔
سویڈن میں پاکستان کے سفیر محترم طارق ضمیرنے بچوں کی اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کو اِس پر افسوس ہے کہ آج کل بچوں کے لیے، بالخصوص دیار غیر میں پیدا ہونے اور پروان چڑھنے والے بچوں کے لئے، مختصر مگر معیاری کہانیوں کی شدید قلت محسوس کی جا رہی ہے لیکن یہ بہت خوشی اور تسلی کی بات ہے کہ بچوں کے لیے اسلامی معلومات پر مبنی، سبق آموز کہانیاں نامی اس کتاب کے مصنف عارف محمود کسانہ صاحب جو کہ عرصہ دراز سے سویڈن میں مقیم ہیں نے اپنے بچوں کی پرورش اس انداز میں کی ہے کہ وہ پاکستان سے باہر رہنے کے باوجود اپنی قومی زبان بھی بولتے ہیں اور اپنی ثقافت سے بھی آشنا ہیں، اس لیے ان کی کہانیان بچوں کی پرورش میں بہت مدد گار ثابت ہو ں گی۔ یہ کہانیاں ہمارے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں امید ہے بہت سے بچوں میں یہ کہانیاں اردو ادب کے ساتھ پائیدار رشتے کو استوار کریں گی اور اس بات میں معا ون ثابت ہونگی ۔ اردو فلک ناروے کی مدیرہ شازیہ عندلیب نے بچوں کی اس کتاب کے بارے یہ تبصرہ کیا کہ ہم لوگ اپنے بچوں کو آج یورپین معاشرے میں سبھی کچھ دے رہے ہیں۔روٹی کپڑا اور مکان مگر انہیں اپنا وقت اور تربیت صحیح طرح سے نہیں دے پا رہے۔عارف صاحب کی یہ کتاب بچوں کے لٹریچر میں کسی تپتے صحراء میں بارش کی پہلی بوند کی مانند ہے۔ وہ سوال جو ہم سب اپنے والدین سے کرتے آئے ہیں مگر تسلی بخش جوابات کبھی نہیں ملے۔یہی سوالات آج بھی بچے پوچھتے ہیں جس کے جوابات بہت دلچسپ انداز میں عارف صاحب نے بچوں کی کتاب ،بچوں کی اسلامی کہانیاں میں دیے ہیں۔
آخر میں پاکستان پریس کلب بیلجیم کا بہت مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے مدعو کیا اور اس اہم تقریب میں شرکت کا موقع لا۔ مجھے امید ہے کہ میری دونوں کتابیں قارئین کے ذوق مطالعہ میں خوبصورت اضافہ ہوگا ۔ قارئین کی رائے سب سے اہم ہوتی ہے اورمجھے بھی ان کی رائے کا نتظار رہے گا۔ میری دونوں کتابیں ایمزون سے بھی حاصل کی جاسکتی ہیں اور اس کے لئے اس لنک میں تفصیل موجود ہے۔
https://goo.gl/RCnwzc

 

ADD this in Inpage
رمضان رفیق، 

3 Apr 2017


Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)