پروفیسر نبیلہ رحمان کے اعزاز میں تقریب

پاکستانی دنیا میں کہیں بھی رہ رہے ہوں وہ اپنی زبان اور ثقافت کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور جب بھی کوئی علمی شخصیت پاکستان سے ان کے پاس آتی ہے تو وہ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کوئی بڑی تقریب منعقد کرلیتے ہیں۔ ایسی ہی ایک تقریب سویڈن میں پاکستانیوں کی ایک نمائندہ تنظیم پاک سوئیڈ ویلفئیر اینڈ کلچرل ایسوسی ایشن اسٹاک ہوم نے پنجاب یونیورسٹی لاہور میں شعبہ پنجابی کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ رحمان کے اعزاز میں منعقد کی۔ اس ادبی محفل کی صدارت سویڈن میں پاکستان کے سفیرجناب احمد حسین دایو نے کی جبکہ مہمان خصوصی سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں شعبہ شرقی علوم کے پروفیسر ڈاکٹر ہینز ویرنر ویسلر تھے۔ اس شاندار ادبی محفل میں شریک خواتین و حضرات نے تقریب کو بہت سراہا۔ حافظ ابوبکر بٹ کی تلاوت قرآن مجید اور رجب علی خان کی نعت رسول مقبول سے تقریب کا آغاز ہوا جبکہ محمد اختر نے سیف الملوک پیش کرکے خوب سماں باندھا۔ تقریب کی نظامت سائیں رحمت علی نے کی اور انہوں نے سرائیکی اور سندھی کلام پیش کرکے حاضرین سے خوب داد حاصل کی۔ پاک سویڈ ویلفئیر ایسوسی ایشن کے صدر عامر جبار ملک نے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیے یہ باعث مسرت ہے کہ علم و ادب کی عظیم شخصیات ہمارے درمیان موجود ہیں۔ تقریب کا پہلا حصہ مشاعرے پر مشتمل تھا جس میں مقامی شعراء محمد ایوب، حمزہ الرحمن، سردار تیمور عزیز، محترمہ شہناز، شکیل خان شکو اور ایشین اردو سوسائیٹی سویڈن کے صدر جمیل احسن نے اپنا کلام پیش کیا اور سامعین سے داد تحسین حاصل کی۔ ڈاکٹر جمعہ خان مری نے بلوچستان کے حوالے سے اظہار خیال کیا اور کہا کہ اب وہاں حالات بہت بہتر ہو گئے ہیں۔تقریب میں موجود حاضرین نے ڈاکٹر عارف کسانہ کے پنجابی خطاب کو بہت پسند کیا اور اس پر خوشی کا اظہار کیا کہ ان کی بچوں کے لیے کتاب اب پنجابی میں بھی دستیاب ہوگی۔ عارف کسانہ نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ ہائیڈل برگ یونیورسٹی میں اقبال چئیر کے لیے تعیناتی کی جائے جو چار سال سے خالی ہے۔ پروفیسر ہینز ویرنر ویسلر نے کہا کہ مجھے آج کی تقریب میں شرکت کرکے بہت خوشی ہورہی ہے اور اردو کے فروغ کے لیے کوششیں باعث تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری مادری زبان جرمن یے لیکن میں نے اردو، ہندی، سنسکرت اور دوسری کئی زبانیں سیکھی ہیں اس لیے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ کوئی بھی زبان سیکھنا مشکل نہیں ہے۔ تقریب کی خاص مہمان پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ رحمان نے کہا کہ اس قدر پذیرائی اور عزت افزائی پر وہ اسٹاک ہوم میں تمام پاکستانیوں کی شکرگزار ہیں۔ انہوں نے پنجابی میں تفصیلی خطاب کرنے کے ساتھ اپنا پنجابی میں کلام بھی سنایا جس پر محفل میں شریک خوتین و حضرات داد دئیے بغیر نہ رہ سکے۔ پروفیسر نبیلہ رحمان نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں پنجابی زبان کے فروغ نہ ہونے کی ذمہ دار خود پنجابی ہیں ۔ جب پنجاب کی عورت اپنے بچوں کے ساتھ پنجابی نہیں بولے گی تو پھر مادری زبان کیسے آگے بڑھے گی۔ اہل پنجاب خود اس زبان سے منہ موڑ رہے ہیں اور گھروں میں اپنے بچوں کے ساتھ نہیں بولی جاتی اور نہ ہی خواتین اس زبان کو بولنا پسند کرتی ہیں۔ پنجابی زبان کے فروغ کے لیے ہمیں اس رویے کو بدلنا ہوگا۔ انہوں نے محبت کی بہت خوبصورت الفاظ میں تشریح کی کہ محبت یہ ہے کہ جو محبوب چاہے وہی کچھ کیا جائے اور جس حالت میں محبوب ہو وہی حالت اپنائی جائے۔ محبت کا یہی جذبہ زندگی کو خوبصورت بناتا ہے اور محبت الہی سے انسان سب سے اعلیٰ درجے پر فائیز ہوجاتا ہے۔ سفیر پاکستان احمد حسین دایو نے اس شاندار تقریب کے انعقاد ہر منتظمین کی کوشش کو سراہا اور کہا کہ پاکستان کاثقافتی ورثہ اپنی مثال آپ ہے۔ ہمارے صوفیا نے محبت اور انسان دوستی کا پیغام دیا ہے۔ سفیر پاکستان نے اس تقریب کی وساطت سے پیغام دیا کہ بیرون ملک مقیم تمام پاکستانی وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کی ڈیم بنانے کے اپیل پر دل کھول کر مالی عطیات دیں۔ تقریب کے اختتام پر روایتی پاکستانی لوازمات سے شرکاء کی تواضع کی گئی

12 Sep 2018


Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)