سویڈش وزارت خارجہ کے حکام سے مسئلہ کشمیر پر برکت حسیئن اور ڈاکٹر عارف کسانہ کی ملاقات


سٹاک ہوم (نمائندہ خصوصی) سویڈن جموں کشمیر کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور یورپی یونین کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اس بارے میں اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ سویڈن نے سٹاک ہوم میں بھارتی سفیر سے ملاقات میں جموں کشمیر کی صورت حال پر اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔ سلامتی کونسل کو اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہیں ۔ ان خیالات کا اظہار سویڈش وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام نے کونسلر برکت حسین اور ڈاکٹر عارف محمود کسانہ سے ساتھ ہونے والی ملاقات میں کیا۔ یہ ملاقات سویڈن کی وزارت خارجہ کے دفتر میں ہوئی جو ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہونے والی ملاقات میں سویڈش وزارت خارجہ کی جانب سے جنوبی ایشیا  Jöran Bjällerstedtاور بحراوقیانوس کے امور کے مشیر اعلیٰ
Emilie Af Jochnick اوروزارت خارجہ میں جنوبی ایشیائی ڈیسک کی انچارج 
 نے کی۔
ڈاکٹر عارف محمود کسانہ اور برکت حسین نے سویڈش وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام کو حالیہ بھارتی اقدامات کے بعد سے جموں کشمیر کی سنگین صورت حال سے آگاہ کیا۔ کشمیری راہنماﺅں نے بتایا کہ تین ہفتوں سے جاری مسلسل کرفیو کے بعد وہاں سنگین انسانی مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ خوراک، ادویات اور دیگر ضروریات زندگی کی شدید قلت ہے۔ بھارتی افواج کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور مقامی آبادی پر ظلم و تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آج کی مہذب دنیا کیا صرف اسے دیکھتی جائے گی یا کوئی عملی اقدامات بھی کرے گی؟ سویڈش وزارت خارجہ کو جیلوں میں بند کشمیری قیادت کی حالت زار سے بھی آگاہ کیا۔ ملاقات میں مسئلہ کشمیر کی پس منظر اور اس کے حل کے لئے سویڈن سے ویسا ہی کردار ادا کرنے کو کہا گیا جو اس نے یمن میں قیام امن کے لئے ادا کیا ہے۔ سویڈن کی غیر جاندار حیثیت اور پاکستان و بھارت دونوں سے دوستانہ تعلقات کی بناد پر وہ اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ سویڈن ابتداءسے ہی مسئلہ کشمیر کے ساتھ منسلک ہے اور اب بھی اس کی فوج کنٹرول لائن پر اقوام متحدہ کی افواج میں شامل ہے۔ برکت حسین اور ڈاکٹر عارف کسانہ نے دستاویزات کی مدد سے سویڈش حکام کو بریفنگ دی۔ اس موقع پر بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم اور بھارتی افواج کی ظالمانہ کاروائیوں کی ویڈیوز اور تصاویر بھی دیکھائیں جنہیں دیکھ کر سویڈش حکام بہت رنجیدہ ہوئے۔انہوں نے کہا کہ دو ایٹمی طاقتوں میں تصادم سے پوری دنیا کا امن خطرے میں پڑ جائے گا اور اس مسئلہ کا مستقل حل تلاش کیا جائے جو جموں کشمیر کے عوام کو آزادانہ اور غیر مشروط حق خود آرادیت دینے سے ہی ممکن ہے۔ ان کی توجہ بھارتی انتہا پسند ہندﺅں کی جانب سے حکومتی سرپرستی میں بھارتی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی طرف بھی مبذول کروائی گئی۔ بھارت کے نام نہاد سیکولرازم اور جمہوریت کا اصل چہرہ بے نقاب کیا گیا۔ سویڈش وزارت خارجہ کی جانب سے جنوبی ایشیا اور اوقیانوس امور کے مشیر اعلیٰ 
Jöran Bjällerstedt
Emilie Af Jochnick اور جنوبی ایشیا ڈیسک کی انچارج
نے کی بہت ہمدری اور غور سے تمام گفتگو سنتے ہوئے نوٹس بھی تیار کئے۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور یورپی یونین کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اس بارے میں اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سویڈن میں بھارتی سفیر سے ملاقات میں جموں کشمیر کی صورت حال پر اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں لیکن سلامتی کونسل کو اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہیں۔انہوں کہا کہ مسئلہ کشمیر بہت پچیدہ مسئلہ ہے اور وہ حالات کو سمجھتے 
 ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سویڈش وزیر خارجہ 

Margot Wallströmنے اپنے ٹوئٹر پیغام میںجموں کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے فون پر اس بارے میں بات بھی کی ہے اس پر کشمیری نے شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ سویڈش وزیر خارجہ کو اپنے بھارتی ہم منصب سے بات کرنی چاہیے اور اپنی تشویش سے آگاہ کرنا چاہیے کیونکہ حالات وہاں سنگین ہیں۔ کونسلر برکت حسین اور ڈاکٹر عارف کسانہ نے سویڈش وزارت خارجہ کے حکام کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے تفصیلی ملاقات کا موقع دیا اور آئندہ سویڈش وزیر خارجہ Margot Wallström سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تاکہ انہیں بھی جموں کشمیر کی سنگین صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے وہاں قیام امن اور کشمیر عوام کے حق خود آرادیت کے لئے سویڈن کے ممکنہ کردار پر تبادلہ خیالات کرسکیں۔ وزارت خارجہ کے حکام نے سویڈش وزیر خارجہ سے ملاقات طے کروانے میں تعاون کا یقین دلایا۔
#arifkisana
#WeStandWithKashmir

29 Aug 2019


Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)