وزیراعظم آزاد کشمیر کا بیان اور سیاسی درجہ حرارت

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے نااہل ہونے پر وزیر اعظم آزاد جموں کشمیر راجہ فاروق حیدر نے ریاست جموں کشمیر کے الحاق کے بارے میں بیان  پر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے جلسہ میں سخت تنقید کرتے ہوئے اسے غداری سے تعبیر کیا۔ اور ان کے خلاف سخت زبان استعمال کی ہے۔ اسی رو میں بہتے میں  کئی اور سیاستدانوں جن میں سابق صدر آصف علی زرداری بھی شامل ہیں، نے بھی عمران خان کی تائد کرتے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیر کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور مستعفی ہونے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ایسا ہی رد عمل کئی ٹی وی اینکروں اور صحافیوں کی جانب سے بھی سامنے آرہا ہے۔ آخر وزیر اعظم آزاد کشمیر کے بیان پر اس شدید رد عمل کیوں ہے۔

پوری دنیا میں ہم گلا پھاڑ پھاڑ کر  کہتے ہیں کہ بھارت کشمیری عوام کو آزادانہ رائے کا حق نہیں دے رہا لیکن کیا ہم یہی حق کشمیری عوام کو دے رہے ہیں۔ کیا حق خود ارادیت کے معنی صرف الحاق پاکستان ہے۔ دنیا کی کس لغت میں خود ارادیت اور آزادی کا مطلب الحاق ہوتا ہے۔ حکومت پاکستان روز اول سے کشمیری عوام کے حق خود آرادیت کی حامی ہے۔ یہ بھی تو جان لیں کہ حق خود آرادیت کا مطلب کیا ہے۔ 
آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق: 
" حق خود آرادیت سے مراد کسی ریاست یا کمیونٹی کا خود مختاری پر مبنی اپنی حکومت قائم کرنے سے متعلق وہ حق ہے جس کا اظہار وہ اپنی پسند، ذہن اور مرضی سے کرسکتی ہے"

اس بلاگ کا مقصد کسی کی حمایت یا مخالفت نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کا آئینی و قانونی بنیادوں پر اصل پہلو سامنے لانا ہے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں، مسلمہ عالمی اصولوں، قائد اعظم کے کشمیر پر پالیسی بیانات، پاکستان اور آزاد جموں کشمیر کے آئین کی روشنی میں حقائق پر مبنی ہے۔ پاکستان کے اکثر سیاستدانوں، صحافیوں اور اعلی تعلیم یافتہ طبقہ کو نہ مسئلہ کشمیر کا علم ہے اور نہ ہی وہ اس کی قانونی اور آئینی پہلوؤں کوجانتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ریاست جموں کشمیر پاکستان کا حصہ ہے یا اس کا الحاق پاکستان سے ہی ہونا ہے۔ یہ لوگ مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر، آل انڈیا مسلم لیگ اور قائد اعظم کی کشمیر پالیسی سے ناآشنا ہیں اور انہیں یہ بھی علم نہیں کہ جب پورے ہندوستان میں آل انڈیا مسلم لیگ تھی تو ریاست جموں کشمیر میں یہ جماعت کیوں نہ تھی اور وہاں الگ سیاسی جماعت مسلم کانفرس کیوں تھی۔ انہیں شاید یہ بھی علم نہیں کہ 1946 کے انتخابات جن کی بنیاد پر ہندوستان تقسیم ہوا ریاست جموں کشمیر میں منعقد ہی نہیں ہوئے تھے۔ یہ لوگ نہ تو تین جون 1947 کے قانون آزادی ہند کو جانتے ہیں اور نہ ہی قائد اعظم کے جون اور جولائی 1947 کے ریاست جموں کشمیر کے بارے میں پالیسی ساز بیانات سے آگاہ ہیں جو اس وقت کے ڈان اور پاکستان ٹائمز میں شائع ہوئے۔

3 جون 1947 کے قانون آزادی ہند کے تحت برصغیر کی 565 دیسی ریاستوں کو حق حاصل تھا کہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرلیں یا اپنی خودمختاری کا اعلان کرلیں۔ بہت کم لوگوں کو یہ علم ہے کہ 1947 میں برصغیر میں دو ملک نہیں بلکہ تین آزاد اور خود مختار ملک وجود میں آئے تھے اور تیسرا ملک حیدرآباد دکن تھا۔ قائد اعظم نے گورنر جنرل کی حیثیت سے حیدر آباد کے سفیر کی سفارتی اسناد قبول کیں۔ مشتاق احمد خان حیدر آباد کے سفیر کی حیثیت سے پاکستان میں تعینات تھے اور 11 ستمبر 1948 کو سقوط حیدر آباد کے بعد بھی 1958 تک حکومت پاکستان کی جانب سے غیر ملکی سفیروں کی فہرست میں حیدر آباد کے سفیر کا نام بھی شامل رہا۔

آل انڈیا مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل خان لیاقت علی خان کا دیسی ریاستوں کے بارے میں پالیسی  اعلان 22 اپریل 1947 کے روزنامہ ڈان میں شائع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ "ہندوستانی ریاستیں ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ معاہدے طے کرنے کے لئے آزاد ہوں گی۔ وہ اپنے لئے مکمل خود مختاری کا اعلان بھی کرسکتی ہیں"۔ 
اس بیاں کے بعد 10 جون 1947 کے روزنامہ ڈان میں مہاراجہ کشمیر کا بیان شائع ہوا کہ وہ ریاست کو خودمختار رکھنا چاہتے ہیں۔ روزنامہ ڈان کا یہ بیان پڑھنے کے بعد مسلم کانفرس کے قائم مقام صدر چوہدری حمید اللہ نے مہاراجہ کشمیر کی تائید میں بیان جاری کیا۔

ریاستوں کے بارے میں اسی پالیسی کا اعادہ قائد اعظم نے پھر کیا اور ان کا بیان 18 جون 1947 کے پاکستان ٹائمز میں یوں شائع ہوا۔ 
" آئینی اور قانونی طور پر ہندوستانی ریاستیں برطانوی راج کے ختم ہوتے ہی آزاد اور خود مختار ریاستیں ہوں گی اور انہیں اپنی راہ خود متعین کرنے کا اختیار ہوگا۔ وہ خود مختار ہوں گی کہ ہندوستان میں شامل ہوں یا پاکستان میں یا آزاد رہیں۔ آزاد رہنے کی صورت میں وہ ہندوستان یا پاکستان سے اپنی مرضی اور اپنے فائدے کے مطابق معاہدے کرسکیں"۔

قائد اعظم نے 11 جولائی 1947 کو مسلم کانفرس کے قائم مقام صدر چوہدری حمید اللہ خان اور پروفیسر اسحاق قریشی کے ساتھ ملاقات میں یہی بات پھر دہرائی کہ ہندوستانی ریاستیں اس امر کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہوں یا ہندوستان کے ساتھ یا خود مختار اور آزاد رہیں۔ ہم کسی ریاست کو نہ ڈرائیں گے، نہ مجبور کریں گے نہ کوئی دباؤ ڈالیں گے۔ (قائد اعظم کا پیغام از سید قاسم محمود صفحہ 220)۔ قائد اعظم کا ریاستوں کے بارے میں پالیسی ساز بیان روزنامہ پاکستان ٹائمز نے 18 جون 1947 کو صفحہ اول پر شہ سرخی کی صورت میں یوں شائع کیا
States can choose to be independent 
Option not limited to India or Pakistan
Jinnah clarifies Muslim League viewpoint 
اب قائد اعظم کو کیا کہیں گے؟ کیا یہ بھی غداری ہے؟

قائد اعظم کے ساتھ جو یہ بیان منسوب کیا جاتا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ سرا جھوٹ اور بے بنیاد ہے۔ قائد اعظم دوہری شخصیت اور منافقانہ سیاست نہیں کرتے تھے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک طرف وہ ریاستوں کے بارے وہ پالیسی رکھیں جو اوپر بیان کی گئی ہے اور دوسری جانب وہ اس کے برعکس یہ کہتے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ مزید براں اگر انہوں نے یہ کہا بھی ہوتا تو اس وقت کے اخبارات ڈان اور پاکستان ٹائمز میں شائع ہوا ہوتا یا مسلم لیگ کے کسی اجلاس کی کارروائی میں شامل ہوتا۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں اور یہ قائد اعظم پر بہتان باندھنے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

اقوام متحدہ ہر سال عالمی نقشہ شائع کرتی ہے جس میں ریاست جموں کشمیر کے تمام علاقوں جن میں گلگت بلتستان بھی شامل ہے، ان سب کو پاکستان اور بھارت سے الگ تھلگ دکھایا جاتا ہے اور ساتھ یہ فٹ نوٹ دیا جاتا ہے کہ اس خطہ کی آئینی حیثیت ابھی متعین نہیں ہوئی۔
گویا قانونی اور آئینی اعتبار سے مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے باشندے ابھی پاکستان اور بھارت کے شہری نہیں۔ اس صورت حال میں وزیراعظم آزاد کشمیر کو کیسے غدار پاکستان کہہ سکتے ہیں۔ ان سیاستدانوں اور اینکروں سے یہ بھی بھی گزارش ہے کہ پاکستان کے آئین کی شق 257 ہی پڑھ لیں جو اس طرح سے ہے۔

Article: 257 Provision relating to the State of Jammu and Kashmir
Provision relating to the State of Jammu and Kashmir.-When the people of the State of Jammu and Kashmir decide to accede to Pakistan, the relationship between Pakistan and that State shall be determined in accordance with the wishes of the people of that State.
آئین پاکستان واضح کررہا ہے کہ کشمیر ابھی پاکستان کا حصہ نہیں اور اس طرح ریاست جموں کشمیر کے باشندے بھی پاکستان کے شہری نہیں اور یہ مستقبل میں اگر رائے شماری ہوئی اور اگر کشمیری چاہیں گے تو ایسا ہوگا۔

اگر کوئی کشمیری الحاق پاکستان کا حامی نہیں تو اسے غدار کہنا اور اس کے لئے گالی گلوچ کہاں کا انصاف ہے۔ ان احباب کی خدمت میں یہ بھی عرض ہے کہ آزاد جموں کشمیر کے عبوری آئین 1974 میں واضح کیا گیا ہے کہ: 
ریاستِ جموں و کشمیر کا سٹیٹس اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریاست کے لوگوں کی اقوام متحدہ کے تحت جمہوری طریقے سے حاصل کی گئی آزادانہ رائے سے متعین ہونا ہے۔

لہذا جب ریاست جموں کشمیر کے مستقبل کا تعین ہونا ابھی باقی ہے اور اس وقت وہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی کے بھی شہری نہیں۔ ریاست جموں کشمیر کے باشندے اپنی آزادانہ رائے کا حق رکھتے ہیں اور اپنی کوئی بھی رائے رکھنے پر کسی کو غدار کہنا انصاف نہیں ظلم ہے۔

Published in
http://www.karwan.no/discussion/43200/2017-08-09/status-of-ajk/

9 Aug 2017

Comments powered by Disqus

Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)

This website was built using N.nu - try it yourself for free.(info & kontakt)