بدعت یاسنت الہی حصہ دوم

 

بدعت یا جدت 
بدعت عمومی طور پرہراُس کام کوکہا جاتا ہے جو رسول پاکؐکے زمانہ میں نہ تھا اور بعد میں اختیار کیا گیا ہو۔ کیا واقعی ایسا ہی ہے؟ اس لیے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ بدعت کسے کہتے ہیں اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اسلام ایک دین ہے تو اس کا کیا مطلب ہے ۔ اگر ہر نئی چیز بدعت اور گمراہی ہے تو پھر حضور پاک کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بعد جو بھی کوئی نئی چیز ہے، وہ سب غلط ہے تو پھر رمضان میں پورا ماہ باجماعت بیس اور آٹھ رکعت تراویح بھی بدعت ہے کیونکہ رسول اکرم نے اس طرح سے تو نہیں پڑھائی تھی۔ احادیث کی کتابیں جو دور صحابہ کے بہت بعد میں لکھی گئیں تو کیا وہ بدعت ہیں۔ قرآن مجید کی تفسیریں، مترجم قرآن مجید، مساجد کے مینار،تسبیح،، فقہ کی تدوین، درس نظامی، دورہ حدیث، اور فتویٰ نویسی بھی دور صحابہ کے بعد کی ایجاد ہیں اور پھر یہ بھی بدعات ہیں۔ بدعات تو مذہبی اور دینی سیاسی جماعتیں، اسلامی نظریاتی کونسل اور پارلیمنٹ بھی ہے جس میں تمام فرقوں کے علماء براجمان ہیں۔ ان بدعات کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا۔کیا ہمارے رہن سہن، کھانے پینے ، طرز زندگی او ر مذہبی سرگرمیوں بہت سے ایسی سرگرمیاں نہیں جو دور نبوی اور صحابہ میں سرے سے موجود نہ تھیں لیکن دور حاضر میں سب نے انہیں اپنایا ہوا ہے اور اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو حضورپاکؐ کے یوم ولادت کو منایا بدعت سمجھتے ہیں۔ در اصل غلط فہمی کی وجہ بدعت کا درست مفہوم نہ سمجھنے اور اس روایت کی وجہ سے ہے کہ ہر نئی چیز بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ کہ علماء اور محدثین کے مطابق جب بھی کوئی روایت پیش کی جاتی ہے تو یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ ہ روایت کس معیار کی ہے۔ کیا یہ قوی حدیث ہے یا ضعیف،، احسن ہے یا وضعی۔روایت کی سند کس درجہ کہ ہے، کیا یہ شاذ، معلل، منکر، مضطرب، مقلوب، مصحف اور موضوع ہے۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ روایت قرآن کے مطابق ہے یا نہیں۔
اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اسلام مذہب نہیں دین ہے۔ مذہب صرف رسمی عبادات اور اعتقادات کا مجموعہ ہوتا ہے جبکہ دین عبادات اور اعتقادات کے ساتھ زندگی کے ہر شعبہ زندگی کا احاطہ کرتا ہے۔ اس میں معاشیات، سیاسیات، حکومت، سماجی اور دیگر امور بھی آجاتے ہیں۔ اس حوالے سے جب ہم اسلام کا دین کہتے ہیں تو اس سے مراد یہ ہے کہ اسلام ایک نظام حیات اور طرز زندگی ہے۔ ہمارے علماء اسلام کا تعارف پیش کرتے ہوئے وضاحت کرتے ہیں کہ اسلام میں دین اور دنیا کی کوئی تفریق نہیں اور ایک مسلمان کی زندگی کا کوئی شعبہ بھی دین سے باہر نہیں۔کاروبار، سیاست، کھیل ، تفریح ، گھر داری، سماجی امور الغرض زندگی کا کوئی گوشہ بھی اسلام کی ہدایت کے باہر نہیں۔ دین حضورﷺ مکمل کرکے اس دنیاسے تشریف لے گئے جس کی وضاحت آخری وحی سورہ مائدہ کی تیسری آیت میں کردی گئی۔لیکن کیا کبھی غور کیا آپ نے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں بہت سے نئے کام ہر روز کرتے ہیں جو حضور ؐ اور صحابہؓ نہیں کرتے تھے۔ کیا وہ بدعت نہیں؟ کیا ہر نئی چیز بدعت اور قابل مذمت ہے ؟اس لیے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ بدعت کہتے کسے ہیں اور دین نے جس بدعت کو گمراہی کہا وہ کیا ہے۔
لفظ بدعت کا ماخذ بدع ہے۔ اس کا مطلب نئی چیز Innovation جو پہلے سے نہ ہو۔ قرآن حکیم میں بدعت کا لفظ تین مقامات پر آیا ہے۔ خدا کی صفت بدیع السمٰوات والا رض ہے (2:177)۔ حضور نے فرمایا کہمیں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا، مجھ سے قبل بھی رسول آتے رہے ہیں (46:9) ۔ رہبانیت کا مسلک ایک بدعت تھی جسے عیسائیوں نے از خود وضع کرلیا تھا (57:27)۔ اس کے علاوہ قرآن حکیم میں بدعت کے بارے میں کوئی اور ذکر نہیں بلکہ قرآن حکیم بار بار غوروفکر اور تحقیق کی دعوت دیتا ہے تو اس عمل کے نتیجہ میں لازمی نئی چیزیں سامنے آئیں گے تو کیاانہیں نہ اپنایا جائے۔ قرآن حکیم کے بعد حدیث کا جائزہ لیں تو ہمیں صیحح مسلم کی یہ روایت ملتی ہے۔ حضرت جریر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو بندہ اسلام میں اچھا طریقہ قائم کرتا ہے اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جاتا ہے تو اس کے واسطے ان سب لوگوں کے برابر اجر لکھ ا جائے گا جو اس طریقہ پر کاربند ہوں۔ اور جس شخص نے اسلام میں کوئی بُرا طریقہ نکالااور بعد میں اس پر عمل کیا تو اس کے ذمہ ان سب لوگوں کا وبال لکھ دیا جاتا ہے جو اُس طریقہ پر عمل کرتے ہیں۔ اب صورت حال بالکل واضع ہوجاتی ہے اور اس حدیث کی روشنی میں علماء نے بدعت کی دو اقسام، بدعت حسنہ یعنی اچھا نیا کام اور بدعت سئیہ یعنی بْرا نیا کام واضع کی ہیں۔اس اعتبار سے کوئی بھی نیا کام جو اچھا ہو اور قرآن و سنت کی تعلیمات کے منافی نہ ہو اسے کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور ہر وہ نیا کام جو قرآن و سنت سے متصادم ہو ،وہ گمراہی ہوگا اور وہ نہیں کرنا چاہیے۔ رسول پاکؐ نے احادیث مبارکہ میں بہت سی پیش گوئیاں کی ہیں جن میں امت مسلمہ کے غلط کاموں اور گمراہی میں مبتلا ہونے کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے اور بہت سے غلط کاموں سے رک جانے کا حکم دیا ہے لیکن کوئی ایک روایت بھی ایسی نہیں کہ جس میں رسول اللہ نے فرمایا اپنا یوم ولادت منانے سے منع کیا ہو یا یہ پیشین گوئی کی ہو کہ میری امت میلاد منانے جیسی گمراہی میں مبتلا ہوجائے گی۔
دین میں کسی نئے کام کی کس حد تک اجازت ہے اور نئے عمل کی حدود کیا ہیں۔ ساری بحث کا حاصل اور بدعت کے حوالے سے خلاصہ کلام یہ ہے کہ نوع انسان کی راہنمائی کے لیے خدا کے قوانین (Devine Laws) جو وحی کی روح سے رسول اللہ کو دئیے گئے ان میں مزید کسی نئے قانون کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔ دین میں اس نوعیت کا اضافہ جائیز نہیں اور یہی گمراہی ہوگی۔البتہ دین کے غیر متبدل اصولوں ( Unchangeable Principles) کے اندر رہتے ہوئے اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق، جزئی قوانین (By-Laws) اور طریقے مرتب اور اختیار کیے جاسکتے ہیں۔ ایسا کوئی بھی نیا اضافہ جو دین کے اصولوں سے متصادم نہیں، قابل قبول ہوگا ۔اس لیے حضور کے یوم ولادت پر تقریبات منعقد کرنا اور آپ کا ذکر کرنا کسی طور بھی غلط اور دین کے اصولوں سے متصادم نہیں۔ اسی اصول کے تحت دیگر کام اور سرگرمیاں بھی کی جاسکتی ہیں لیکن یہ خیال رکھنا نہایت ضروری ہے کوئی بھی غیر شرعی کام نہ کیا جائے۔ ربیع الاول میں حضور پاک کی ولادت ہو یا دنیا سے تشریف لے جانے کا دن، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اصل مقصد قرآن حکیم کی روشنی میں اسوہ حسنہ کو بیان کرتے ہوئے پیروی کا جذبہ بیدار کرنا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے محافل منعقد کرنا، درود و سلام پیش کرنا اور آپ ؐ کا ذکر کسی طرح سے دین کی تعلیمات سے متصادم نہیں۔ بدعت اور جدت کا فرق سمجھنا چاہیے۔ قرآن حکیم بار بار غور و فکر کرنے، سوچنے، تدبراور تحقیق کرنے کے احکامات دیتا ہے تو اُن کے نتیجہ میں نئی چیزیں تشکیل نہیں پائیں گی۔ اگر ہر نئی چیز کو گمراہی قرار دے دیا جائے تو سائنسی تحقیق کے دروازے بند ہوجائیں گے۔
اگر حضورؐ کا میلاد منانا بدعت اور ناجائیز ہوتا تو علامہ اقبال اس سے گریز کرتے۔ دور حاضر میں علامہ اقبالؒ وہ واحد مسلم مفکر ہیں جن پر سب کا اتفاق ہے۔ وہ حکیم الامت تھے اور قرآن پاک پر اُن کی گہری نظر تھی۔ علامہ نے کئی دفعہ عید میلاد النبیؐ کے جلسوں اور جلسوں میں شرکت کی۔ ایک بار وہ لاہور سے اس مقصد کے لیے بطور خاص1932ء میں جالندھر بھی گئے تھے ۔ جلوس کے بعد جلسے میں انہوں نے سیرت پر ایک جامع تقریر کی۔ (انقلاب ۰۲ جولائی ۲۳۹۱، ذکر اقبال از عبدالمجید سالک صفحہ ۷۷۱، علامہ اقبال: شخصیت اور فکروفن از ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی ص ۸۹۱)۔ رسالہ صوفی کے اکتوبر 1926کے شمارہ میں ان کی لاہور میں عید میلاد النبیؐ کے جلسہ میں کی جانے والی تقریر شائع ہوئی تھی جو ان سوالوں اک جواب دیتی ہے کہ عید میلادالنبی ؐ منانا چاہیے یا نہیں۔ یہ نادر تقریر ڈنمارک کی آن لائن ویب سائیٹ اردو ہم عصر کے مدید نصر ملک نے دوبارہ شائع کی ہے۔ علامہ اقبال لاہور میں عید میلاد النبیؐ کے جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’زمانہ ہمیشہ بدلتا رہتا ہے ۔ انسانوں کی طبائع ، ان کے افکار اور اُن کے نقطہ ہائے نگاہ بھی زمانے کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ لہذا تیوہاروں کے منانے کے طریقے اور مراسم ہمیشہ متمتغیر ہوتے ہیں اور اُن سے استفادے کے طریقے بھی بدلتے رہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنے مقدس مراسم پر غور کریں اور جو تبدیلیاں افکار کے تغیرات سے ہونی لازم ہیں ان کو مدنظر رکھیں۔ منجملہ ان مقدس ایام کے جو مسلمانوں کے لیے مخصوص کئے گئے ہیں ایک میلاد النبیؐ کا مبارک دن بھی ہے۔ میرے نزدیک انسانوں کی دماغی اور قلبی تربیت کے لیے نہایت ضروری ہے کہ ان کے عقیدے کی رو سے زندگی کا جو نمونہ بہترین ہو وہ ہروقت اُن کے سامنے رہے۔ چناچہ مسلمانوں کے لیے اسی وجہ سے ضروری ہے وہ اُسوہ رسولؐ کو مدنظر رکھیں تاکہ جذبہ تقلید اور جذبہ عمل قائم رہے‘‘۔
اس ساری بحث کو سمیٹتے ہوئے یہی عرض کرنا چاہوں کہ اسلام ایک دین اور نظام حیات ہے جو زندگی کے تمام شعبوں میں ہماری راہنمائی کرتا ہے۔ ہماری زندگی کے بہت شعبوں جن میں مذہبی امور بھی شامل ہیں ہم سب کئی ایسے کام کرتے ہیں جو دور رسالت اور صحابہ اکرام کے زمانے میں نہیں تھے۔ اسلام نے ہمیں اس سے نہیں روکا اگر وہ نئے کام قرآن کے احکامات اور اسوہ حسنہ سے متصادم نہ ہوں۔ ان مستقل قوانین میں کوئی کمی بیشی نہیں کرسکتا یعنی کوئی چھ یا چار فرض نمازیں، روزوں کی تعداد یا دورانیہ میں کمی بیشی یا دیگر ارکان اسلام یا عقائد میں اضافہ نہیں کرسکتا۔ ان مستقل قوانین کے اندر رہتے ہوئے مختلف سرگرمیاں کی سکتی ہیں اور اجتہاد بھی کیاجاسکتا ہے لیکن جس کام سے دین نے روکا ہو وہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہی اصول میلاد النبی کی تقریبات پر بھی لاگو ہوتا ہے ،حضورؐ کے یوم ولادت پر تقریبات منعقد کرنا کسی طور پر غلط نہیں البتہ وہ سرگرمیاں جو اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں ان کا کسی طور پر جوااز نہیں بنتا ۔ ان تقریبات اور سرگرمیوں میں غیر شرعی، فضولیات اور بے مقصد کام نہیں ہونے چاہئیں بلکہ میلاد کی تقریبات میں اس انداز میں منعقد کی جائیں کہ قرآن حکیم کی روشنی میں مقام رسالت بیان کرتے ہوئے محبت رسول ؐکے جذبہ کو بیدار کرکے اخلاق نبوی کو عملی زندگی کا حصہ بنانے پر زور دینا چاہیے۔ عشق رسول کا اظہار اپنے عمل، اچھے اخلاق اور مخلوق خدا سے محبت اور خدمت سے کریں ۔یہ میلاد منانے کا اصل مقصدہونا چاہیے ۔

This Column was publihsed in
http://www.karwan.no/discussion/31685/2016-01-03/exploring-islam/

http://dailyudaan.nic.net.in/epaperadmin/photos/large/117243212201516923.jpg

http://www.urdufalak.net/urdu/2015/12/24/69626

http://shanepakistan.com/?p=30985

 http://urdunetjpn.com/ur/category/dr-arif-kisana/page/2/

http://shanepakistan.com/?p=30985

http://gujratlink.com/international/2015/december/25/zd02.gif

4 Jan 2016


Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)