سپین کا خوبصورت ساحلی شہر بارسیلونا

سپین تو پہلے بھی کئی بار جانے کااتفاق کا تفاق ہوا تھا لیکن اس بار سیاحت کا پروگرام قدرے مختلف تھا۔ سپین کے جنوبی علاقہ جس میں قرطبہ اور غرناطہ جیسی مسلم تہذیب کی نشانیاں اور قابل ذکر مقامات ہیں، انہیں دیکھنے کا شوق تھا۔ اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ساتھ سویڈن سے میڈرڈ بذریعہ ہوائی جہاز پہنچے جہاں برادر اصغر شاہد محمود اپنی فیملی کے ساتھ ہمارے منتظر تھے۔میڈرڈ کا ہوائی اڈہ وسیع رقبہ پر پھیلا ہواہے اور اس اعتبار سے یہ اور پیرس کا چارلس ڈیگال ائیر پورٹ یورپ کے سب سے بڑے ہوائی اڈے مانے جاتے ہیں۔ اکثر بڑے ہوائی اڈوں پر مسافروں کے لئے اپنے متعلقہ گیٹ پر جانا اور دیگر چیزوں کی تلا ش میں کچھ دقت پیش آتی ہے لیکن میڈرڈ کا ہوائی اڈہ اس انداز سے تعمیر کیا گیا ہے کہ اس میں بھول بھلیاں نہیں ہیں اور ایک ریلوے پلیٹ فارم کی طرح کی سیدھا ہے جس سے مسافروں کو دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔ ائیرپورٹ سے شہر جانے کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ اور زیر زمین ریلوے کا بہترین اورقدرے سستا انتظام موجود ہے۔ ہم نے چونکہ سیاحت کا تفصیلی پروگرام بنا رکھا تھا اس لئے ہوائی اڈہ سے کرایہ پر کار حاصل کی اور گھر کے لئے روانہ ہوئے۔ ترقی یافتہ ممالک نے کیسی سہولتیں مہیاکررکھی ہیں کہ دوسرے ملک میں جا کر بھی باآسانی کرایہ پر کار حاصل کرکے مزے سے سفر کریں۔ میڈرڈ چونکہ ہم نے پہلے کئی بار دیکھ رکھا تھا اس لئے اب کی بار میڈرڈ ہماری ترجیح نہ تھا لہذا اگلے ہی روز ہم سب بارسیلونا جانے کے لئے عازم سفر ہوئے۔ اس پہلے 2005میں بارسیلونا دیکھ چکے تھے لیکن یہ ایسا پیارا شہر ہے کہ جب بھی جائیں خوب لطف آتا ہے۔ 
میڈرڈ سے بارسیلونا ساڑھے چھ سو کلومیٹر کے قریب ہے۔ میڈرڈ سے جاتے ہوئے زیادہ تر سنگلاخ پہاڑیاں اور سبزے سے خالی میدان نظر آئے ۔ تین سو کلومٹر فاصلہ طے کرکے ہم ساراگوسا میں دوپہر کے کھانے کے لئے رکے۔ یہ اپنے صوبے کا صدر مقام ہے اور سرسبز علاقہ ہے جہاں باغات بکثرت ہیں۔ اس شہر کو عربی میں سرقطہ کہتے ہیں اور یہ قریب ایک صدی قائم رہنے والی مسلم ریاست طائفہ سرقطہ کا صدر مقام تھا اور سقوط قرطبہ سے قبل ہی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔ سارا گوسا سے ہماری گاڑی فراٹے بھرتی ہوئی بارسیلونا کی جانب رواں دواں تھی۔ 
بارسیلونا سپین کا مشہور ساحلی شہر ہے جہاں پورا سال سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ سیاحوں کی بہت سے آمد کی وجہ سے مقامی لوگوں کو رہائش کے مسائل کابھی سامنا ہے۔ یہ شہر وسیع ساحل سمندر، کھجوروں کے درختوں اور تاریخی عمارتیں کے باعث یہاں آنے والوں کو اپنی جانب متوجہ کیئے رکھتاہے۔بارسیلونا 85 سال مسلمانوں کے زیر نگین رہا ہے۔ اس شہر میں بہت سی تاریخی عمارتیں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔شہر کے وسط میں واقع Pla231a de Catalunya یہاں کی تاریخی عمارتوں اور جدید شہر کے درمیان واقع ہے ۔ Familia Sagrada اس شہر کی پہچان اور فن تعمیر کا ایسا شاہکار ہے جسے اقوام متحدہ نے عالمی ثقافتی ورثہ کی عمارتوں میں شامل کیا ہوا ہے۔ اس رومن کیتھولک گرجا کی تعمیر 1882 میں شروع ہوئی جو ابھی بھی جاری ہے۔ اسے دیکھنے کے لئے سیاحوں کا ہجوم ہوتا ہے اور اس لئے ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے جس کے لئے پندرہ یورو ادا کرنا ہوتے ہیں۔ یہ ٹکٹ پہلے سے ہی آن لائن خریدنا پڑتا ہے ۔دنیا میں اس جیسی شاندار عمارت اور کہیں نہیں ہے اور اس کا احساس تب ہوتا ہے جب عمارت کے اندر جائیں اور جوں جوں اوپر جائیں اس کے عظمت سامنے آتی جاتی ہے۔ 
بارسیلونا شہر کے وسط میں La Rambla میں ہر وقت سیاحوں کا رش لگا رہتا ہے۔ یہاں بہروپیے مختلف صورتیں بنائے تفریح کا باعث ہوتے ہیں۔ ہمارے یہاں آنے کے ایک ہفتہ بعد اسی علاقہ میں بدترین دہشت گردی ہوئی جس میں تیرہ لوگ جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس کے ایک سرے پر کولمبس کا مجسمہ ہے اور اسے آگے بحیرہ روم کا ساحل ہے۔ کولمبس کا تعلق سپین تھا اور امریکہ دریافت کرنے کی مہم پر وہ سپین سے ہی گیا تھا۔ اس بازار کے ساتھ ہی El Raval میں ایک علاقہ ہے جسے پاکستانی پریشان رمبلہ کہتے ہیں۔ بارسیلونا میں مقیم صحافی جناب عبدالغفور قریشی نے اس نام کی وجہ تسمیہ بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے نووارد جب بارسیلونا آتے تھے تو وہ یہاں آپس میں مل بیٹھتے تھے اور اپنی پریشانیاں اور مسائل ایک دوسرے کے ساتھ بیان کرتے تھے اسی مناسبت اس کا یہ نام مشہور ہوا۔ یہاں پاکستانی دوکانیں اور ریسٹورنٹ بھی موجود ہیں۔ اسی علاقہ میں مسجد طارق بن زیاد ہے جو 1974 میں تعمیر کی گئی۔ 
بارسیلونا نیم خود مختار علاقے کاتلان کا دارالحکومت ہے۔ دارالحکومت سے یاد آیا اردو کیکئی بڑے کالم نگار اور مصنف اب بھی دارالحکومت کی بجائے دارالخلافہ لکھتے ہیں اور مزے کی بات یہ کہ وہ یورپی ممالک کے لئے بھی یہ لفظ لکھتے جہاں کبھی خلافت تھی ہی نہیں۔ سمجھ نہیں آتا اب بھی وہ دارالخلافہ کیوں لکھتے ہیں۔ بحرحال بات ہورہی تھی کاتلان کی۔یہ مثلت نما خطہ سپین کے شمال میں فرانس کی جانب واقع ہے اور اسے نیم خود مختاری حاصل ہے۔ اس کی زبان اور ثقافت سپین سے قدرے مختلف ہے اس لئے یہ اپنی آزادی اور مختاری کی جدوجہد کررہے ہیں۔ بارسیلونا ہمیں کئی گھروں پر کاتلان کے جھنڈے لہراتے ہوئے نظر آئے۔ 
بارسیلونا کے مضافات میں ایک اونچی پہاڑی پر Tibidabo گرجا گھر کی پرشکوہ عمارت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ یہاں سے ایک جانب شہر کا خوبصورت نظارہ ہوتا ہے تو دوسری جانب وسیع پہاڑی سلسلہ تا حد نگاہ سامنے ہوتا ہے۔ یہ ایسے ہی محسوس ہورہا تھا جیسے اسلام آباد دامن کوہ اور پیر سوہاہ کی جانب سفر کیا جائے۔ Tibidabo پہاڑی کی چوٹی پر بنایا گیا ہے یہ بھی عالی شان عمارت ہے ۔ جو بھی بارسیلونا آتا ہے وہ یہاں کا رخ ضرور کرتا ہے۔ اس کا کچھ حصہ بغیر ٹکٹ کے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ سب سے اوپر جانے کے لئے ٹکٹ لینا پڑتا ہے اور وہ نقد ادائیگی پر کیونکہ بینک کارڈ یا کریڈٹ کارڈ کی سہولت میسر نہیں۔ اس گرجا گھر کے اندر برقی شمعیں رکھی گئی ہیں اور بیس سے بچاس سینٹ ادا کرکے سیاح اپنی طرف سے ایک شمع روشن کرسکتے ہیں۔ معلوماتی اشتہار جو اکثر مقامات پر مفت ملتے ہیں، یہاں دس سینٹ ادا کرکے لئے جاسکتے ہیں۔ دو بھرپور دن بارسیلونا میں گزارنے کے بعد ہماری میڈرڈ واپسی ہوئی اور پھر اگلے روز سرزمین اندلس کی جانب روانہ ہوئے۔قرطبہ اور غرناطہ کے سفر کا احوال قارئین اگلی قسط میں ملاحظہ فرماسکیں گے۔ 

LINK

https://www.express.pk/story/978590/

https://www.urduqasid.se/%D8%AE%D9%88%D8%A8%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA-%D8%B4%DB%81%D8%B1-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%B3%DB%8C%D9%84%D9%88%D9%86%D8%A7/

29 Oct 2017

Comments powered by Disqus

Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)

This website was built using N.nu - try it yourself for free.(info & kontakt)