فرشتوں کی حیرت

#arifkisana

اس آدم خاکی کی تخلیق پر فرشتوں کو تعجب اس لئے ہوا تھا کہ کائنات میں یہ کس قسم کی مخلوق بنائی جارہی ہے جو خدا کے قانون سے سر کشی برتنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہوگی۔ اس سے پہلے کائنات میں کوئی بھی تخلیق ایسی نہ تھی جو خدا کے حکم اور قانون کی خلاف ورزی کرسکے۔ فرشتوں کا اعتراض آدم کے بنائے جانے پر نہیں تھا بلکہ اس اختیار پر تھا جو انسان کو ودیت کیا جانا تھا ۔ا ن کے فہم کے مطابق اس کا نتیجہ خوں ریزیاں اور فساد ہو گا۔ انہوں نے عرض کیا کہ اے باری تعالی جو فرائض بھی ہمارے سپرد کئے جاتے ہیں ہم ان کی انجام دہی میں سر گرم عمل رہتے ہیں اور معمولی سی بھی سستی یا حکم عدولی کا سوچ بھی نہیں سکتے اس لیے کسی ایسی مخلوق کے پیدائش کی وجہ سمجھ نہیں آرہی جو تمہارے حکم کے خلاف اپنی مرضی بھی کرسکے گی۔ 
فرشتوں کی حیرت بجا تھی کہ کیونکہ اس سے پہلے کائنات میں کوئی بھی مخلوق ایسی نہیں تھی جسے قوانین خداوندی سے مجالِ سرتابی ہو لیکن خالق کائنات نے ان سے فرما دیا کہ میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ فرشتوں کی حیرت اپنی جگہ درست تھی کہ جس مخلوق کے پاس حکم خداوندی کے خلاف چلنے کا بھی اختیار ہو گا وہ ضرور فساد اور خرابیاں پیدا کرے گی۔ خدا نے فرشتوں سے یہ نہیں کہا کہ تمہارے اعتراض کی وجہ غلط ہے بلکہ یہ کہا کہ جو ہم جانتے ہیں اس سے تم لا علم ہو۔اس فرمان خداوندی کے بعد فرشتوں نے تو سر تسلیم خم کرلیا اور حکم خداوندی کی تعمیل میں آدم خاکی کے سامنے سجدہ ریز بھی ہوگئے لیکن ابلیس نے نافرمانی اور راندہ درگاہ ہو گیا لیکن ساتھ ہی اس نے مہلت بھی مانگ لی مجھے قیامت تک کی اجازت دے دی جائے تاکہ میں اولاد آدام کو گمراہ کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرسکوں۔ خدا نے مہلت عطا کی اور کہا کہ تمہارا وار میرے نیک بندوں پر نہیں چل سکے گا۔ ابلیس نے کہا کہ دیکھنا ، میں اس مٹی کے پتلے کو کیسا تگنی کا ناچ نچاتا ہوں اور اس کی وہ درگت بتاوں کہ کیا یاد کرے گا۔ ابلیس اپنے کام میں تن دہی سے مصروف ہو گیا اور ماہر اقبالیات پروفیسر خواجہ اکرام کے بقول علامہ اقبال نے ابلیس کے اس کردار کو اپنے کلام میں اجاگر کیا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے مشن پر دن رات مسلسل مصروف عمل ہے۔ یہ ابلیس کی ہی کارستانی ہے کہ دنیا کہ نام نہاد مہذب اقوام جمہوریت، مساوات، حقوق انسانی اور احترام کا درس تو دیتی ہیں لیکن بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کے مصداق جو علامہ لینن کی زبان سے کہلوایا 
یہ علم، یہ حکمت ، یہ تدبر، یہ حکومت                                    
پیتے ہیں لہوو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات                                    
دنیامیں کروڑوں انسانوں کا خون خود انسانوں نے ہی بہایا ہے اور یہ فرشتوں کے اعتراض کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کائنات میں کسی بھی جاندار نے اپنی ہی نوع پر وہ ظلم نہیں کا جو خود انسانوں نے انسانوں پر روا رکھا ہے۔ عالمی جنگوں میں جب خون کے دریا بہے اور جب جاپان پر جب دو اٹیم گرے تھے اس وقت فرشتے شائد کہتے ہوں کہ ہم نے بالکل ہی درست کہا تھا کہ یہ آدم دنیا میں فساد اور خون ریزیاں برپا کرے گا۔ کشمیر، فلسطین، عراق، شام، یمن، افغانستان، برما غرض کس کس کا نام لیا جائے، انسانوں کا دوسرے انسانوں پر ظلم و ستم بڑھتا ہی جارہا ہے۔ انسانی تاریخ میں بہت ہی کم وقت ایسا ہوا جب ظلم، ناانصافی اور فساد نہیں ہوا۔ کیا اس اعتبار سے فرشتوں کا اعتراض درست تھا؟
جنگ وجدل اور فساد انگیزیاں ایک طرف لیکن اس کے باوجود تاریخ انسانی ایسے واقعات سے بھی بھری پڑی ہے کہ جن پر بھی فرشتوں کو حیرت ہوتی ہوگی۔ انسانیت کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ کبھی آتش نمرود میں بے خطر کود جاتا ہے تو کبھی فرعون کی جیسی بڑی طاقت کے سامنے کلمہ حق کہہ دیتا ہے۔ اسی تاریخ میں صبر ایوب بھی ہے اور صدق خلیل اللہ بھی ہے۔ فرشتوں کو اس وقت بھی حیرت ہوئی ہوگی جب اپنے ہی بیٹے کے گلے پر چھری رکھ دی جاتی ہے اور بیٹا خود اپنی رضا سے اس کے نیچے لیٹ جاتا ہے۔ اس پرفرشتوں نے ضرور سوچا ہوگا کہ ہاں یہ بھید خالق کائنات ہی جاتا ہے۔ قدسیوں نے وہ منظر بھی دیکھا کہ طائف کی سرزمین حبیب اللہؐ کے لہو سے رنگین ہورہی ہے اور پھر انہی میں سب سے برگزیدہ نے اجازت چاہی کہ انہیں دوپہاڑوں کے درمیان مسل دویا جائے لیکن جواب ملا کہ نہیں، یہ میری بابت جانتے نہیں۔ حیرت تو فرشتوں کو صدق ابوبکر، عدل فاروقی، سخاوت عثمانی، اور ضرب یدالہی پر ہوتی ہوگی کہ انسان کے سوا کوئی اور مخلوق یہ کر ہی انہیں سکتی تھی اور پھر جب کربلا کا منظر دیکھا ہو گا تو برملا کہا ہو گا کہ اے پروردگار پاک ہے تیری ذات اور تیرے راز تو ہی بہتر جانتا ہے۔تاریخ انسانی ایسی کوئی اور مثال پیش کرسکتی ہی نہیں سکتی کہ اپنا پورا گھرانہ اور جانثار ساتھی راہ حق میں قربان کردئیے ۔ حلق علی اصغرسے جب تیر کے ساتھ خون کا فورا نکلا ہوگا تو تو فرشتوں نے عظمت آدم کا اعتراف کرلیا ہوگاکہ یہ مقام آدم خاکی کا ہی ہے ۔علامہ نے اسی لیے کہہ دیا کہ 
مقامِ شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں                            
انہیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیادہ                           

19 Sep 2018


Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)