اس ظلم کا سد باب ممکن ہے

وزیر اعظم اور وزیر اعلٰی نے سخت نوٹس لے لیا ہے۔ واقعہ کی فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ مجرم سزا سے بچ نہیں سکیں گے اور انہیں عبرت ناک سزا دی جائے گی وغیرہ وغیرہ یہ وہ روایتی بیانات ہیں جو کوٹ رادھاکشن میں ایک مسیحی جوڑے کے انتہائی ظالمانہ قتل کے بعد جاری کئے گئے۔ ایسے ہی رٹے رٹائے بیانات شانتی نگر، گوجرہ، جوزف کالونی اور دوسرے بہت سے سانحات کے بعد جاری کیئے گئے تھے۔ کچھ ایسا ہی حکومتی ردعمل سیالکوٹ میں دو بھائیوں کے بہیمانہ قتل،گجرات میں ایک بچے کے بازوکاٹنے،کئی مقامات پر خواتین کی بے حرمتی اورتیزاب پھیکنے کے واقعات، گھریلو ملازمین پر جبر و تشدد دیگر واقعات کے بعد سننے کو ملا ۔ اس طرح بیانات کا تسلسل ہر انسانیت سوز اور ظالمانہ واقعہ کے بعد ارباب اقتدار کی طرف سے دہرایا جاتاہے اور کچھ ہی عرصہ کے بعد وہ واقعہ منظر عام سے غائب ہوجاتا ہے اور پھر کوئی اور واقعہ رونما ہوتا ہے تو حکومتی اہلکار پرانے بیان کو پھرسے میڈیا کے لیے جاری کرکے گویا اپنا فرض پورا کر دیتے ہیں اور ساتھ حکومت کی موجودگی کا احساس بھی دلادیتے ہیں۔ ہر ہفتہ عشرہ کے بعد پاکستان میں ایسے واقعات کا ہونا ایک معمول بن چکا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں بھی اس کا چرچا ہوتا ہے اور ہرکوئی اپنا تجزیہ پیش کررہا ہوتا ہے۔ لیکن دو بنیادی سوالات ذہن میں گردش کرتے ہیں کہ یسے واقعات کیوں بار بار ہوتے ہیں؟ اور دوسرا یہ کہ ان کو کیسے روکا جاسکتا ہے؟ ان کا سد باب کیسے ممکن ہے ؟
ایسے واقعات بار بار ہونے کی وجوہات وہ مائنڈ سیٹ ہے جس نے ہمارے معاشرہ کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے۔ جس کی ذمہ داروہ تعلیم ہے جس نے لوگوں کے ذہنوں کو بند کرکے رکھ دیا ہے۔ اسلام کی غلط تشریح ہے جس نے ہر شخص کے ہاتھ میں لٹھ دے رکھی ہے، وہ ادارے اور درسگاہیں ہیں جو انتہا پسندی کی نرسری ہیں۔ وہ نام نہاد مذہبی رہنماء ہیں جنہوں نے فتوٰی ساز فیکٹریاں کھول رکھی ہیں۔ مذہب کے نام پر دھبہ ہیں وہ سب جنہوں نے نہ خدا کی آخری وحی کو سمجھاہے اور نہ ہی رحمت اللعالمین ﷺ کی سیرت کو جانا ہے بلکہ فی سبیل اللہ فسادکا موجب ہیں۔معاشرے کا وہ رویہ ہے جس نے عدم برداشت اور جبر کی فضا پیدا کررکھی ہے۔ جس کا جے چاہیے جو مرضی کرے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ انسان کی قدر جانور کے برابر بھی نہیں۔حکومتی رٹ اور قانون نام کی کوئی چیز ہی نہیں۔ ملک مجرموں کی جنت بنا ہوا ہوا ہے۔ تفتیشی نظام، عدالتی طریقہ کار اور کرپشن کی وجہ سے اگر ملزم پکڑے بھی جائیں تو کچھ ہی عرصہ کے بعد چھوڑ دئے جاتے ہیں۔ تھانے کچہری کے چکر، کبھی حکم امتناعی، کبھی گواہوں کا مسئلہ ، کبھی وکیلوں کے تاخیری حربے اور ان کی فیس اور کبھی پولیس کے مطالبات ، مظلوم تو بے چارہ پس کررہ جاتا ہے۔ انصاف میں تاخیر دراصل مظلوم کے ساتھ ظلم ہوتا ہے اور مجھے یہ لکھنے میں کوئی عار نہیں کہ پاکستان کا انتہائی سست عدالتی نظام بھی مظلوموں کے ساتھ ظلم کرنے میں اپنا پورا کرادر ادا کرہا ہے اور یہی حقیقت ہے کہ ایسے واقعات بار بار ہونے کی وجہ مائنڈ سیٹ کے بعد پاکستان کا عدالتی نظام ہے کیوں کہ آج تک کسی ظالم کو قرار واقعی سزا نہ ملنے سے لوگوں کے دلوں میں کوئی خوف نہیں باقی نہیں رہا۔ گاڑیوں کے شیشے توڑنے والے کو قید کی سزا لیکن انسانوں کو قتل کرنے والے آزاد۔سیالکوٹ میں الٹا لٹکا کر قتل ہونے والے مغیث اور منیب کے قاتلوں کو اسی جگہ الٹا لٹکانے کے حکومتی دعوے کہاں گئے؟ اُس وقت کے وزیر اعلیٰ آج بھی اسی منصب پر فائیز ہیں، اُن کے بلند و بانگ وعدے کہاں گئے؟ کہاں گیا انکوائری کمیشن؟ کہاں گیا سپریم کورٹ کا نوٹس؟ سب کچھ ہوا میں تحلیل ہوگیا بلکہ الٹا اس خبر کو منظر عام تک لانے والے صحافی حافظ عمران کو اپنی جان بچانے کے لیے پاکستان سے بھاگنا پڑا اور سویڈن میں پناہ لینا پڑی۔ آئندہ وہاں کون آازدی صحافت کا علمبردار بنے گا۔
ایسے واقعات کو روکنے اور مستقبل میں ان کے سد باب کے لیے ضروری ہے کہ مذہبی منافرت پھیلانے کی ملائیشیا کی طرح سزا سخت دی جائے۔ مذہبی اشتعال پھیلانا سنگین جرم قرار دیا جائے ۔ علاؤالدین خلجی جیسی سخت حکمت عملی کی ضرورت ہے کہ اس کی مملکت میں کسی کو کم تولنے کی جرات نہیں ہوتی تھی کیونکہ وہ کم تولنے والے کے جسم سے اتنی مقدار کا گوشت اتراتا تھا جتنا کسی نے کم تولا ہوتا تھا۔ مذہبی معاملہ میں رائے صرف اسلامی نظریاتی کونسل یا اس منصب کے لیے ذمہ دار افرادہی جاری کریں اور یہ صرف رائے تصور کی جائے نہ کہ حکم۔ کسی کی جان لینے یا سنگین سزا پر مبنی فتویٰ دینا جرم قرار دیا جائے اور ایسا کرنے والے کو سزا دی جائے۔تنگ نظری اور جبر کے حامل مائنڈ سیٹ کے لیے رائے عامہ بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ظلم اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وہاں عدل کا نظام قائم نہیں ہوجاتا۔ ایسے مقدمات کے فیصلہ اور سزا پر عمل درآمد کے لیے فوری، مفت اور عدل پر مبنی انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ہوگا ۔ پولیس کے نظام تفتیش اور وکلاء کے تاخیری حربوں کی اصلاح کرتے ہوئے اگر ایک بار بھی وہاں اس نوعیت کے مجرموں کو قرار واقعی سزا مل گئی تو آئندہ ایسے ظالمانہ واقعات کی روک تھام ممکن ہے۔ اگراسلام آباد میں ہونے والے رمشا مسیح کے واقعہ میں ملوث قاری خالد جس نے اپنے پاس سے قراآنی اوراق شامل کیے تھے اگر اسے سخت سزا ملی ہوتی تو کوٹ رادھاکشن میں مولوی محمد حسین کو یہ جراٗت نہ ہوتی کہ وہ شہزاد مسیح اور اُس کی بیوی کے انتہائی ظالمانہ قتل کے لیے لوڈ اسپیکر استعمال کرکے لوگوں کو اکساتا۔ ایسے واقعات کی روک تھام اسی صورت میں ممکن ہے کہ اس میں ملوث افراد اور مولوی محمد حسین کو قانون کے تحت سزا دیتے ہوئے نشان عبرت بنا دیا جائے تاکہ آئندہ کوئی اور مذہب کی آڑ میں عوام کو مشتعل کرکے دوسروں کی زندگی سے نہ کھیلے۔ اگر کوٹ رادھاکشن کے واقعہ میں ملوث افراد کو چھ ماہ کے اندر سزا سنا کر اس پر عمل شروع کردیا جائے تو آئندہ سے کسی کو ایسا کرنے کی ہمت نہیں ہوگی لیکن اگر سانحہ کوٹ رادھاکشن کا حشر بھی ماضی میں ہوئے سانحات کی طرح ہوا تو یہ سلسلہ کبھی نہیں رکے گا اور خون ناحق بہتا رہے گا بقول فیض
نہ مدعی نہ شہادت، حساب پاک ہوا         یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا۔                      

14 Nov 2014


Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)