سلام پاکستان

سویڈن میں پاکستان کی ثقافت، سیاحت، اردو زبان اور تجارت کے فروغ کے لئے دو سال قبل ایک تنظیم پاکستان انفارمیشن اینڈ کلچرل سوسائیٹی PICSکے نام سے قائم کی گئی جو اب سویڈن میں مقیم تمام پاکستانیوں کی نمائدہ جماعت کی صورت میں متحرک ہے۔ سویڈن میں اس وقت اور بھی پاکستانی تنظیمیں اور ایسوسی ایشن موجود ہیں جو مختلف شعبوں میں گراں قدر خدمات سرانجام دے رہی ہیں لیکن پکس کی انفرادیت نے اسے سب میں مقبول بنا دیا ہے۔پکس پہلے سے موجود تمام پاکستانی تنظیموں کے لئے ایک رابطے کا پلیٹ فارم ہے اور ان کی حریف نہیں بلکہ حلیف ہے۔ دیگر وجواہات میں یہ بھی شامل ہے کہ اس میں پاکستان کی تمام اکائیوں کی بھر پور نمائدگی، سویڈن میں پروان چڑھنے والی نوجوان نسل کی اس سے وابستگی اور مقامی سویڈش لوگوں کے ساتھ قریبی رابطہ بھی ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ تمام پاکستانیوں کی ایک مشترکہ رابطہ تنظیم جو مذہبی، سیاسی، علاقائی، نسلی اور لسانی تفریق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف پاکستانیت کے نام پرمصروف عمل ہے۔ یہ پاکستان کے تصور کو بہتر بناتے ہوئے سویڈن میں اپنی ثقافت اور تہذیب کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہے۔ پکس نے کشمیری عوام کے ساتھ بھی اظہار یکجہتی کیا ہے اور ان حق خود آرادیت کے لئے ہونے والی جدوجہد کی بھی حمایت کی ہے۔ سویڈن میں پاکستان کے سابق سفیر جناب طارق ضمیر نے اس کے قیام اور بعد میں ہونے والے پروگراموں میں بھرپور سرپرستی کی۔ اپنے قیام کے بعد پکس نے کئی پروگرام کیے جن میں گذشتہ سال جنوری میں سلام پاکستان کے نام سے زبردست پروگرام شامل ہے جس میں علاقائی لباس میں ملبوس بچوں نے پاکستان کے چاروں صوبوں اور جموں کشمیر کی ثقافت کی بھر پور عکاسی کی جسے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔گذشتہ سال ہی ناروے میں قائم فلاحی تنظیم سکون کے ساتھ مل کر پاکستان میں معذور بچوں کو مفت پہیوں والی کرسیاں مہیا کرنے کے لئے ایک پروگرام منعقد کیا جس میں لوگوں نے بھرپور تعاون کیا اور 125سے زائد وہیل چئیرز کے لئے رقم اکٹھی کی گئی۔ وہ مستحق معذور لوگ جب ان کرسیوں کی مدد سے گھر سے باہر جاتے ہیں تو ان کی خوشی دیدنی ہوتی ہے اور اس کے لئے سویڈن کی پاکستانی کمیونیٹی نے پکس کے تعاون سے قابل تحسین فریضہ سرانجام دیا۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی کپتان ثنا میر کے اعزا ز میں اسٹاک ہوم میں تقریب منعقد کرکے اپنی قومی ہیرو کی عزت افزائی بھی پکس کے حصہ میں آئی۔ اس تنظیم صدر شہزاد انصاری ہیں جبکہ دیگر عہدیداران میں نازنین انصاری، غزل مہدی، اشعر محمد، شہاب قادری، سمرینہ بیلا، مونا قادری، شکیل خان شکو، نوید عباس، شاہ گل شکیل اورسبحانہ میمن شامل ہیں جبکہ مشاورتی بورڈ میں معروف شاعرجمیل احسن اور راقم (عارف محمود کسانہ) کو شامل کیا گیا ہے۔ 
پاکستان کی ثقافت اور پہچان کو سویڈن میں مزید متعارف کرانے کے لئے اب ایک زبردست پروگرام طے کیا ہے جو آج تک پہلے سویڈن میں نہیں ہوا۔27 جنوری بروز ہفتہ دن بارہ تا چار بجے سویڈش دارالحکومت اسٹاک ہوم کے مرکز میں واقع کنگز گارڈن میں ایک شاندار پروگرام منعقد کیا جارہا ہے جس میں داخلہ بھی مفت ہے۔ اس میں پاکستان کے چاروں صوبوں کے روایتی کھانے، کشمیری سبزچائے،مزیدار گول گپے اور بہت سی دیگر کھانے کی چیزیں شرکاء کو اپنی طرف متوجہ کریں گی۔ خواتین اور بچوں کی دلچسپی کی بھی بہت سی چیزیں اور سرگرمیاں ہوں گی۔ اس پروگرام کی سب سے بڑی بات پاکستان کے ٹرک آرٹ کی نمائش ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان کے ٹرک آرٹ کی دھوم ہے اور بہت سے یورپی مصوروں اور مصنفین نے اس پر کتابیں لکھی ہیں۔ سویڈن کی تاریخ کا یہ پہلا موقع ہوگا کہ پاکستان کے ٹرک آرٹ کو یہاں کے لوگ دیکھ سکیں گے۔ ٹرک آرٹ کے ساتھ ایک اور اہم سرگرمی رباب بجانے کا مظاہرہ ہوگا جس کے لئے اس آلہ موسیقی کے ماہر حیدر ولی خصوصی طور پر اسٹاک ہوم آرہے ہیں۔ رباب ایک خاص قسم کا ساز ہے جوپاکستان، افغانستان، ایران، ترکی اور وسطی ایشیائی ممالک میں بہت مقبول ہے۔ پکس کی یہ کوشش ہے کہ اس پروگرام سے سویڈن میں پاکستان کی تہذیب وثقافت اور اردو زبان کو فروغ حاصل ہو۔ ایسے پرگراموں میں مقامی لوگ بھی شریک ہوں گے جس سے پاکستان کی سیاحت اورتجارت کو فروغ اور پاکستان کی نیک نامی میں بھی اضافہ ہوگا۔ پاکستان انفارمیشن اینڈ کلچرل سوسائیٹیی یہ سارا پروگرام کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے یا تنظیم کے کسی قسم کے تعاون یا سرپرستی کے بغیر اپنے وسائل سے کررہی ہے۔ پکس کی انتطامیہ کا یہ شکوہ بجا ہے کہ سویڈن میں پاکستان کے سفارت خانہ نے اس پرگرام کی کسی قسم کی اعانت نہیں کی جو قابل افسوس ہے۔ جن پرگراموں سے بیرون ملک پاکستان کا تصور بہتر ہوتا ہے اور پاکستان کی نیک نامی ہوتی ہے ان کے ساتھ سفارت خانہ کا بھرپور تعاون ہونا چاہیے۔ اس وقت دنیا میں پاکستان کا منفی تصور ابھارنے کے لئے کئی قوتیں مصروف عمل ہیں اور وہ اس کام کے لئے خطیر رقم خرچ کررہی ہیں لیکن ہمارے سفارت خانے مثبت سرگرمیوں میں تعاون سے کیوں گریزاں ہیں۔ ہفتہ کے روز ہونے والے اس پروگرام میں پکس نے پاکستان کی ثقافت اور شناخت کو اٹھا کر سویڈش دارالحکومت کے دل میں پیوسط کرنے کا جو عزم کیا ہے جو ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا کیونکہ سب میں اس کے لیے بہت جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ اس پروگرام کی تفصیل اس ویب لنک میں موجود ہے . www.salampakistan.se

LINKS

https://www.urduqasid.se/%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86/



22 Jan 2018

Comments powered by Disqus

Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)

This website was built using N.nu - try it yourself for free.(info & kontakt)