افکار تازہ اور بچوں کی کتاب کی سویڈن میں تقریب رونمائی


سٹاک ہوم(رپورٹ کاشف عزیز بھٹہ ؍ تصاویر شہاب قادری) معروف کالم نگار اور صحافی عارف محمود کسانہ کی تصانیف افکار تازہ اور بچوں کے لئے دلچسپ اور انوکھی کہانیاں کی تقریب رونمائی سٹاک ہوم میں منعقدہوئی۔اس پروقار
تقریب کی صدارت سویڈن میں پاکستان کے سفیر جناب جناب طارق ضمیر نے کی ۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ جن میں خواتین بھی شامل تھیں اس تقریب میں شریک ہوئے۔ تقریب کا آغاز شاہد چوہدری کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا جبکہ نعت رسول پاک کی سعادت افضل فاروقی نے حاصل کی۔ مقامی شاعر اور ایشین اردو سوسائیٹی کے صدر جمیل احسن نے نظامت کے فرائض بہ احسن طریقہ انجام دیئے۔ سویڈن میں پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی مختلف ممتازشخصیات جن میں کونسلر برکت حسین، زمان خان ،سائیں رحمت علی۔محترمہ شہناز پروین۔ڈاکٹر سہیل اجمل۔محترمہ ذکیہ مرزا۔ تیمورعزیز۔عمانوئیل راتق ۔سید مشبر صادق، حافظ عمران اورمنیب چوہدری نے عارف محمود کسانہ کی شخصیت اور ان کی تصانیف بارے اظہار خیال کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا ۔ مقررین نے کہا کہ افکار تازہ موجودہ دور میں مسلمانوں کے اہم مسائل کا قرآن حکیم کی روشنی میں رہنمائی کرتے ہوئے اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کا ازالہ اور غیر قرآنی تصورات کا رد کرتی ہے۔ کتاب کے اہم موضوعات فکر اقبال، انتہا پسندی، مغربی معاشرہ میں مقیم تارکین وطن، دور حاظر کے چیلنج، پاکستان کے مسائل، مسلمانوں کی پستی، مسئلہ کشمیر، عورتوں، نوجوان نسل، بچوں کی تربیت، سویڈش نظام حکومت، تعلیم و تحقیق، خصوصی افراد، سماجی امور، عوامی مسائل، جدید سائنسی تحقیق اور بہت سے دوسرے موضوعات شامل ہیں۔ فکر انگیز تحریریں اس کتاب کو دیگر کتابوں سے نہ صرف ممتاز کرتی ہے بلکہ گھر کے ہر فرد کے لئے اس میں دلچسپی اور مفید معلومات ہیں۔ یہ کتاب بندے کا رب اور اس کی آخری کتاب کے ساتھ تعلق قائم کرتے ہوئے کردار سازی کی ایک کوشش ہے۔بچوں کے سوالات کو دلچسپ کہانیوں کی صورت میں لکھ کر انہوں نے والدین اور بچوں پر بہت احسان کیا ہے اور امید ہے اُن کی دونوں کتابیں بہت پسند کی جائیں گی۔ علامہ ذاکر حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ کتاب لکھنے سے علم کی روشنی پھیلتی ہے جو حقیقت میں مردہ قوم کو نئی زندگی بخشتی ہے۔ اس موقع پر انہوں نیمنظوم خراج تحسین یوں پیش کیا کہ
عارف سلام ہے تیری معرفت کو          لکھ کر کتاب ہے کیا تو نے بیدار امت کو            
علم و عمل کے زمانے میں ہے تقیب تو    ایسے مجاہدوں کی ہے ہر دم ضرورت اسلام کو           
تیری کاوشوں کو سراہا جائے گا ہر پل      تیری کتاب سے ہوگا اُجالا زمانے کو            
تقریب کے مہمان خصوصی عارف محمود کسانہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بہت حساس ہیں اور وہ پاکستان کو ایک خوشحال ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اس ساتھ ہی جن ممالک میں وہ مقیم ہیں وہ بھی ان کا وطن ہے اور دیار غیر نہیں۔ ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے اور نوجوان نسل کی تربیت پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔یہ فیصلہ قارئین ہی کرسکتے ہیں کہ میری کتابیں کس معیار کی ہیں اورمستقبل قریب میں مزید کتابیں شائع کرنے کا ارادہ ہے۔سفیر پاکستان جناب طارق ضمیرنے اپنے خطبہ صدارت میں کہا کہ انہیں آج اس تقریب میں شریک ہوکر دوہری خوشی ہورہی ہے۔ پہلی یہ کہ تقریب میں خواتین، بچوں،مختلف مسالک، مذاہب اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد ایک جگہ جمع ہیں اور ایسا اجتماع پہلے نہیں دیکھا۔ اگر قائداعظم اس طرح کا اجتماع دیکھتے تو بہت خوش ہوتے۔دوسرے خوشی عارف کسانہ کی دونوں کتابوں کی اشاعت پر ہے۔ بہت سے کالم نگاروں نے علامہ اقبال سے متاثر ہوکر اپنے کالم کا عنوان اُن کے کلام سے چنا ہے لیکن عارف کسانہ کی طرح بہت کم نے اس کا حق بھی ادا کیا ہے۔ عارف کی تحریوں میں امید کا پیغام اوربہت سے موضوعات پر ایک کتاب لکھ کر انہوں نے شاندار کارنامہ سرانجام دیا ہے۔عارف چومکھی لڑائی کررہا ہے جس میں اپنے طبی تحقیق کے کام کے ساتھ صحافت، کالم نگاری ،ماہانہ درس قرآن کا سلسلہ ہے جو سات سال سے جاری ہے۔ یہ اُن کے گھروالوں کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ وہ حرمت قلم کا امین ہے جس کا میں خود گواہ ہوں۔ عارف کا علم کتابی کے ساتھ اکتسابی علم بھی اور ابھی اسے اور آگے جانا ہے۔ میری نظر میں اُس کاظاہر سے باطن کا سفر شروع ہوچکا ہے اور وہ اس راہ گذر سے آگے بڑھ کر اسم بامسمیٰ بنے گا۔ عارف میں دو بڑی خوبیاں، عاجزی اور خلوص ہیں جن کی بدولت وہ انشاء اللہ کسی بڑے مقصدکے لیے صاحب حال بنے گا۔ان کی دونوں کتابیں بہت اچھی ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ بہت مقبول ہوں گی۔ اس موقع پر انہں نے عارف کسانہ کے لیء علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھا
اخلا ص عمل مانگ نیاگان کہن سے  شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را        
محترمہ سجیلا عارف کسانہ نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بہت خوشی ہے کہ عارف کی دونوں کتابیں شائع ہوگئیں ہیں۔ انہوں نے کہ وہ گھرمیں سب کو وقت دیتے ہیں اور بہت اچھے شوہر ہیں۔ تقریب کے آخر میں محترمہ سجیلا عارف کسانہ نے افکار تازہ جبکہ حارث محمود کسانہ نے بچوں کی کتاب کی رسم رونمائی انجام دی ۔تقریب میں سابق سفیر ڈاکٹر عبدالستار بابر اور سفارت خانہ پاکستان کے منسٹر نجیب درانی بھی موجود تھے۔ اس تقریب کو آئی دیسی سویڈن کی میڈیاٹیم شہزاد انصاری شہاب قادری کاشف عزیز بھٹہ نے لائیو کور کیااور اس تقریب کی لائیوکوریج آئی دیسی ٹی وی چینل پر دکھائی گئی جس کو سینکڑوں لوگوں نے گھر بیٹھ کر دیکھا۔ 

 

21 Apr 2016


Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)

This website was built using N.nu - try it yourself for free.(info & kontakt)