فرینڈز آف شوکت خانم سویڈن کی تقریب

سویڈن کی پاکستانی کمیونیٹی بہت فعال ہے اور اس نے ہمیشہ پاکستان میں انسانی فلاح و بہبود کے کاموں میں پڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ پاکستان کے بہت سے فلاحی اداروں کے لیے سویڈن کی پاکستانی کمیونیٹی ہر سال ایک خطیر رقم بھیجتی ہے۔ کینسر جیسے موذی مرض جس کے علاج کے اخراجات برداشت کرنا کم آمدنی والوں کے لیے ممکن نہیں ۔ ایسے مریضوں کے لیے امید کی شمع شوکت خانم کینسر ہاسپیٹل نے روشن کی ہے۔ پاکستان میں کینسر کے مریضوں کی تعاد اس قدر زیادہ ہے کہ بہت سے کینسر ہاسپیٹل قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ حکمران طبقہ کو تو اس کا احساس نہیں کیونکہ وہ تومعمولی بیماری کا علاج بھی بیرون ملک سے کرواتے ہیں۔ ان کی ترجیح ہاسپیٹل یا تعلیمی ادارے نہیں بلکہ وہ تعمیرات ہیں جنہیں وہ اپنی کارکردگی کی غرض سے پیش کرنے کے ساتھ کمیشن بھی بنا سکیں۔ یہ امر قابل تحسین ہے کہ لاہور اور پشاور میں شوکت خانم کینسر ہاسپیٹل قائم کرنے کے بعد اب کراچی میں تیسرے ہاسپیٹل کی تعمیر جاری ہے۔ فرینڈز آف شوکت خانم اسکینڈے نیویا کے نے سویڈن کے دارلحکومت اسٹاک ہوم میں شوکت خانم کینسر ہاسپیٹل کراچی کی تعمیر کے لیے امدادی رقوم اکٹھی کرنے کی غرض سے ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا۔ جس کا آغاز قدیر علی کی تلاوت قرآن حکیم سے ہوا۔ غزال مہدی نے بہت خوبصورتی سے تقریب کی نظامت کے فرائض سرانجام دئیے۔ اس تقریب کی مہمان خصوصی پاکستان کی سپر اسٹار ہیروئین ریما خان تھیں۔ فرینڈز آف شوکت خانم سویڈن کے منتظم ڈاکٹر عارف کسانہ نے سویڈن میں پاکستانی کمیونٹی تعداد میں اگرچہ چھوٹی ہے لیکن وہ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ شوکت خانم کینسر ہاسپیٹل لاہور کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عاصم نے کینسر کی بیماری اور علاج کی تفصیلات کے ساتھ شوکت خانم ہاسپیٹل کے تعمیر سے کارکردگی کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ شعبہ مارکیٹنگ سے نائیلہ خان نے بتایا کہ یہ ہاسپیٹل عوام کے عطیات سے تعمیر ہوا ہے جسے سب ناممکن منصوبہ قرار دے رہے تھے۔ تقریب کی مہمان خصوصی ریما خان نے کہا کہ وہ امریکہ سے خصوصی طور پر اس عظیم مقصد میں حصہ لینے کے لیے سویڈن آئی ہیں۔ انہوں نیحاظرین سے کہا کہ آپ خوش نصیب ہیں جنہیں اللہ نے اس نیک مقصد کے لیے چنا ہے۔ کسی ایک انسان کی جان بچانے سے بڑی نیکی اور کیا ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہ وہ تیرہ سال سے شوکت خانم سے وابسطہ ہیں۔ جب امدادی رقوم اکٹھی کرنے کی اپیل کی گئی تو ہال میں موجود لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور تمام تر توقعات کے برعکس اس قدر زیادہ عطیات جمع ہوئے کہ ماضی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ عمران خان کے دستخط والا بلا شیخ سعید نے 50 ہزار میں ، گیند 9 ہزار اور 45 ہزار سویڈش کرونا عطیہ دئیے۔ خالد یزدانی نے 50 ہزار کرونا عطیہ دیا اور دیگر حاظرین نے بھی دل کھول کر عطیات دئیے اور پچاس لاکھ روپے کے قریب عطیات جمع ہوئے۔سویڈن میں آج تک کسی بھی پاکستانی پروگرام میں انتی زیادہ رقم جمع نہیں ہوئی اور یہ ایک ریکارڈ ہے۔ اس تقریب کو کامیاب بنانے کے لیے فرینڈز آف شوکت خانم سویڈن کی ٹیم جس میں چوہدری رحمت علی اور ان کی اہلیہ، عامر ندیم، قدیر علی، شفقت کھٹانہ، عامر جبار، شہاب قادری، شکیل شکو، ثنا ء یوسف، شہزاد انصاری، غزال مہدی ، ، منزہ لوسر، سجیلا عارف اور راقم (عارف کسانہ،منتظم کمیٹی ) شامل تھے ۔اس کامیاب تقریب کے آخر شاندار کارکردگی پر فرینڈز آف شوکت خانم سویڈن کی ٹیم کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی جسے عارف کسانہ نے وصول کیا۔ تقریب کے انتظامات پاکستان انفارمیشن اینڈ کلچرل سوسائیٹی سویڈن کے عہدیداران نے سوسائیٹی کے صدر شہزاد انصاری کی قیادت میں بہترین انداز میں سرانجام دئیے خصوصاََ نوید میمن اور شہاب قادری نے پروگرام کی بہترین کوریج کی۔ یہ ایک ایسی شاندار تقریب تھی جو مدتوں یاد رہے گی۔ ایسی ہی ایک تقریب اگلے روز ناروے کے دارلحکومت اوسلو میں بھی ہوئی۔
http://urdunetjpn.com/ur/2018/05/22/shaukat-memorial-fund-raising-in-sweden/



21 May 2018

Comments powered by Disqus

Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)

This website was built using N.nu - try it yourself for free.(info & kontakt)