سٹاک ہوم سٹڈی سرکل کی ماہانہ 107 ویں نشست اور یوم اقبال

سٹاک ہوم (رپورٹ :طارق محمود) سٹاک ہوم سٹڈی سرکل کی ماہانہ علمی اور دینی نشست عارف کسانہ کی میزبانی میں منعقدہوئی۔ہر ماہ منعقد ہونے والی ان نشستوں میں برصغیر سے تعلق رکھنے والی سویڈن میں مقیم علمی اور ادبی شخصیات باقاعدگی سے شرکت کرتی ہیں۔ الحمداللہ اب تک سٹڈی سرکل کی 106 نشستیں کامیابی سے منعقد ہو چکی ہیں اور حالیہ 107 نشست گزشتہ روز منعقد کی گئی جس میں قرآن پاک کی سورہ مدثر کی آیات 31 تا 35 کا مفہوم اور تفصیلات بیان گئیں۔ ان آیات میں اس انقلاب کا ذکر ہے جس نے دنیا کی کایا پلٹ کررکھ دی اور جس کی صداقت میں کائنات کے ناقابل تردید ثبوت بھی دئیے گئے ہیں۔ مومنین اور عام مسلمانوں کے سامنے جب وہ حقائق آتے ہیں تو سر تسلیم خم کرلیتے ہیں۔اس نشست کی خاص بات علامہ اقبال رحمتہ اللہ کے یوم وفات کے حوالے سے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی دہلی کے شعبہ اردو کے پروفیسر جناب ڈاکٹر اکرام خواجہ کا سکائپ پر لائیو خطاب تھا جسے حاضرین محفل کے علاوہ دنیا کے بیشتر حصوں میں فیس بک لائیو پر دیکھا اور سنا گیا۔انہوں نے علامہ اقبال کو شاعر مشرق کہنے کی بجائے ایک آفاقی شاعر قرار دیا جو تمام نسل انسانی کاراہنماء ہے کیونکہ اقبال کی شاعری میں بنی نوح انسان کی عظمت بیان کی گئی ہے۔ڈاکٹر اکرام خواجہ نے کہا علامہ اقبال نے اسلام کا آفاقی پیغام صرف مسلمانوں کے لئے نہیں دیا بلکہ ساری دنیا کے انسانوں کیلئے دیا ہے۔ اقبال نے اپنی شاعری میں نیکی اور بدی کا کردار علامتی طور پر بیان کرتے ہوئے ابلیس کو بدی کا نمائندہ قرار دیا ہے اور اپنے اشعار سے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ابلیس اپنے کام میں کتنی تندہی سے مگن ہے اور وہ نسل انسانی کی ابتدا سے ہی انسان کو بہکانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ہے۔ انسان اپنا بچپن کھیلنے میں، جوانی خوابوں میں اور باقی عمر اچانک رشتوں اور فرائض کو نبھانے میں گزار دیتا ہے۔ اور دنیا کے پیچھے بھاگتے بھاگتے آخر میں اس کے ہاتھ نہ دنیا آتی ہے نہ آخرت۔ ایک بڑا شاعر براہ راست بات نہیں کرتا بلکہ اشاروں کنایوں میں بات کرتا ہے تاکہ پیغام بھی پہنچ جائے اور پڑھنے والا انسان ناراض بھی نہ ہو۔ اقبال نے ہمیشہ انسانیت کی بھلائی کے لئے لکھا ہے۔ جب اللہ نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھالا ہے تو اسے اپنے آپ کو بہترین بن کر دکھانا چاہئیے۔ اقبال اپنی شاعری میں کوئی نیا فتوی نہیں دیتے بلکہ وہ قرآن، انبیا اور اللہ کے نیک لوگوں کے ارشادات کو اپنی شاعری کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔اقبال کی شاعری میں سب سے پہلے انسان کو شاعرانہ خوبیاں اپنی طرف راغب کرتیں ہیں اور بعد میں انسان جتنا غور کرتا ہے اسے اقبال کی شاعری میں اتنی ہی فکری اور علمی باتیں سمجھ آتی جاتی ہیں۔ ہمیں یوم اقبال کو یادگار بنانے کے لئے اقبال کا پیغام عام کرنا چائیے جو تمام انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے۔ آخر میں حاضرین محفل نے اقبال کی فکر اور خودی کے متعلق پروفیسر صاحب سے سوالات کیے اور نشست کے آخر میںسویڈن میں پاکستان کے سفیر طارق ضمیر کے چچا اور ناروے میں مقیم پاکستانی کالم نگاراور سماجی راہنما شیخ احسان کی ناگہانی وفات پر اظہار افسوس کیا گیا ۔ مرحومین اور عارف کسانہ کی والدہ کی برسی پران کے لئے دعائے مفغرت کی گئی۔ حاضرین محفل کے لئے چائے اور دیگر لوازمات کا حسب معمول اہتمام کیا گیا تھا اور سب احباب نے اس نشست کو علم و فکر کے لحاظ سے بہت مفید قرار دیا۔

Links
http://www.picss.se/urdu/archives/1868

http://www.karwan.no/meeting/41128/2017-04-25/study-circle-stolkcholm/


http://www.urdunama.eu/2017/04/107-stockholm-study-circle-107.html


25 Apr 2017


Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)