?ہم مسلمان کیوں ہیں

--عارف محمود کسانہ کی بچوں کے لئے لکھی گئی خوبصورت تحریر  

پیا رے بچو آپ تو جانتے ہی ہوں گے کہ لندن برطانیہ کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہاں دیکھنے والی بہت سی جگہیں ہیں ۔ بچوں کی پسند کی بہت ساری چیزیں ہیں۔ اِسی لندن شہر کے ایک علاقے میں ایک چھوٹی اور پیاری سی بچی علیشاہ اپنے امی ، ابو اور دو بہنوں کے ساتھ رہتی ہے۔

تینوں بہنیں آپس میں بہت پیار سے رہتی ہیں۔ علیشاہ سب سے بڑی ہے اور وہ سکول جاتی ہے ۔جبکہ اریبہ اور سب سے چھوٹی عنایئہ گھر پر کھیلتی رہتی ہیں۔

اُن کے گھر کے پاس ہی بچوں کے لیے ایک چھوٹا سا پارک ہے جہاں جھولے اور کھیلنے والی دوسری بہت سی چیزیں بھی ہیں۔ وہ تینوں اپنے امی اور ابو کے ساتھ وہاں جاتی ہیں اور خوب مزے سے کھیلتی ہیں ۔


ایک دن اریبہ نے پوچھا امی جان ہم مسلمان کیوں ہیں؟
امی جان نے کہا کہ ہم مسلمان گھر میں پیدا ہوئے ہیں اس لیے ہم مسلمان ہیں۔ اریبہ نے پھر پوچھا کہ مسلمان کون ہوتا ہے اور جو مسلمان نہیں ہوتے ان میں اور مسلمانوں میں کیا فرق ہے؟ امی جان نے بتایا کہ زمین، آسمان اور پوری دنیا کو اللہ نے بنایا ہے انسانوں کو بھی اللہ نے پیدا کیا ہے۔ اللہ نے انسانوں کو زندگی بسر کرنے کے لیے ایک طریقہ اور قانون بھی بنایا ہے جسے اسلام کہتے ہیں اب جو انسان بھی اُس کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے اُسے مسلمان یا مُسلم کہتے ہیں اور جو اُس کے مطابق زندگی بسر نہیں کرتا وہ مسلمان نہیں ہوتا۔ زندگی گزارنے کے لیے اللہ تعالٰی کے قانون قرآن مجید میں موجو د ہیں ۔ اب علیشاہ نے پوچھا کہ امی جان قانون کا کیا مطلب ہے۔


اب امی جان نے بتانا شروع کیا کہ کچھ دن پہلے ہمارے گھر کے نزدیک دو گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں تھیں۔ تمھیں معلوم ھے نا۔ جی امی جان وہ جو سرخ اور نیلی گاڑیاں تھیں علیشاہ نے جواب دیا۔
ہاں وہی سرخ اور نیلی گاڑیاں اور اللہ کا شکر ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ حادثہ کے بعد وہاں پولیس آگئی تھی۔ پولیس نے سب کچھ دیکھ کر سرخ کار والے کو کہا کہ قصو ر تمہارا ہے اور اُس کو جرمانہ بھی کر دیا۔ تمہیں معلوم ہے کہ پولیس نے کیسے کہہ دیا کہ قصور سرخ گاڑی والے کا ہے۔ بات صاف تھی کہ سڑک پر چلنے کے لیے قانون موجود ہے اور سڑک کے جس طرف چلنے کی اجازت ہو اسی جانب گاڑی چلائی جا سکتی ہے۔ جو بھی اس کے مخالف گاڑی چلا ئے گا وہ قانون کی خلاف ورزی ہو گی۔ سرخ گاڑی والے نے قانون کے خلاف گاڑی چلا کر جُرم کیا جس کی اُس کو سزا ملی۔ سبز گاڑی والا قانون کے مطابق اپنے ہاتھ جا رہا تھا اسی لیے پولیس نے اسے کچھ بھی نہیں کہا۔ یہ قانون انسانوں نے بنایا ہے تاکہ سب اچھے طریقہ سے رہیں اور کوئی نقصان نہ ہو۔
علیشاہ نے پھر پوچھا ۔ امی جان کیا اللہ نے بھی قانون بنائے ہیں ۔
امی جان۔ جی بیٹا اللہ نے بھی قانون بنائے ہیں جن کے خلاف چلنے سے انسان کو بڑا نقصان ہوتا ہے۔
علیشاہ۔ امی جان اس کی بھی کوئی مثال بتا ئیں۔
امی جان نے بتانا شروع کیا اور کہا کہ تمھیں پتہ ہے نا تمھارے ماموں کے بیٹے ناصر نے آگ میں ہاتھ ڈال دیا تھا۔ جس سے اُس کا ہاتھ بُری طرح جل گیا تھا۔ وہ مارے درد کے چیخ رہا تھا۔ اُس کی بُری حالت دیکھ کر تمھارے ماموں کہہ رہے تھے ۔ اچھا ہوا ! تمھیں اپنے کئے کی سزا ملی۔ ہم تمھیں روز سمجھاتے تھے کہ آگ کے ساتھ نہیں کھیلا کرتے لیکن تم باز ہی نہیں آتے تھے۔ اب ہاتھ جل گیا ہے تو آئندہ کے لئے تمھیں نصیحت ہو جائے گی۔
تمھیں معلوم ہے کہ ناصر کو کس بات کی سزا ملی؟ اُسے قانون کے خلاف چلنے کی سزا ملی۔ آگ کی خاصیت ہے کہ جو بھی اس میں ہاتھ ڈالے گا اس کا ہاتھ جل جائے گا۔ اِس کو بھی قانون کہتے ہیں۔ یہ قانون خدا کا بنایا ہوا ہے۔ خدا نے اِس طرح کے بہت سے قانون بنائے ہیں جن کے خلاف چلنے سے انسانوں کو بڑا نقصان ہو تا ہے۔ اِسی لیے ہمیں چاہیے کہ ہم خدا کے بنائے ہوئے قانونوں کے مطابق زندگی گزاریں۔ اِسی کو اسلام کہتے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں اور جو بھی اللہ نے کہا ہے اُس کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں ۔ وہ سب کچھ قرآن مجید میں موجود ہے۔ بچو! قانون کے مطابق زندگی بسر کرنے سے انسان خود بھی امن اور سلامتی رہتا ہے اور دوسرے بھی امن او ر سکون سے رہتے ہیں۔ اسی لیے اسلام کے معنی اَمن اور سلامتی کے ہیں۔
-علیشاہ نے کہا امی جان آپ کا بہت شکریہ آج آپ نے بڑی اچھی باتیں بتائی ہیں۔ میں یہ باتیں اپنے دوستوں کو بھی بتاؤں گی


Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)