Story2

اللہ اور انسانوں کے قانون میں فرق۔۔۔۔

علیشاہ سکول سے گھر آ ئی اور اپنی امی سے کہا کہ امی جان مجھے بہت بھوک لگی ہے جلدی سے مجھے کھانا دے دیں۔ امی جان نے کہا کہ بیٹا جب بھی گھر آتے ہیں تو سب پہلے سلام کرتے ہیں اور پھر ہاتھ منہ دھو کر کھانا کھاتے ہیں۔ علیشاہ نے کہا کہ امی جان بہت زور کی بھوک لگی تھی اِس لیے میں بھول گئی ہوں۔ امی جان نے کہا کوئی بات نہیں چلو تم ہاتھ منہ دھو لو میں تمھارے لیے کھانا نکالتی ہوں۔ علیشا ہ نے کھانا کھا کر پہلے اللہ تعالٰی کا شکر ادا کیا کہ اُس نے ہمارے لیے کھانے کی اِتنی اچھی اچھی چیزیں پیدا کی ہیں۔ پھر اُس نے اپنی امی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اُس کے بہت مزیدار کھانا تیار کیا۔ کھانا کھانے کے بعد علیشاہ نے کہا امی جان آپ نے جو باتیں مجھے بتائیں تھیں وہ میں نے اپنے دوستوں کو بھی بتا ئی ہیں اُن سب نے بہت پسند کی ہیں مگر میری ایک دوست لائبہ نے پوچھا ہے کہ کیا صرف مسلمان گھر میں پیدا ہونے سے ہی کوئی مسلمان ہو سکتا ہے اور اگر کوئی مسلمان گھر میں پیدا نہ ہو تو کیا وہ مسلمان نہیں بن سکتا۔ امی جان نے کہا کہ لائبہ نے تو بہت اچھا سوال پوچھا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ مسلمان ہونے کے لیے کوئی مسلمان گھر میں ہی پیدا ہو۔ اگر کوئی مسلمان گھر میں پیدا نہیں بھی ہوا ہو مگر وہ بڑے ہو کر قرآن شریف کو پڑھے اور اِسے سمجھے پھر اگر اُسے اچھا لگے اور اسلام پسند آجائے تو مسلمان بن سکتا ہے۔ مسلمان ہونے کے لیے مسلمان گھر میں پیدا ہونا ضروری نہیں۔ اسی طرح جب تم بڑی ہوگی اور خود قرآن مجید پڑھو گی تو تمھیں اسلام کے بارے میں معلوم ہو جائے گا ۔ پھر سب کچھ تمھاری سمجھ میں بھی آ جائے گا اور تم مکمل مطمئن ہو جاؤ گی ۔ ابھی تم چھوٹی ہو اِس لیے ہو سکتا کہ کچھ باتیں ابھی تمھیں سمجھ نہ آ رہی ہوں ۔
اب علیشاہ نے پو چھا امی جان ایک اور سوال ہے کہ پچھلی کہانی میں آپ نے اللہ تعالٰی کے قانون اور انسانوں کے بنائے ہوئے قانون کی مثال دی تھی ۔ یہ بتائیں کہ اِن دونوں میں کیا فرق ہے۔ امی جان نے کہا کہ اُس کہانی میں جو دو مثالیں تمھیں بتائی تھیں وہ تو تمھیں یاد ہیں نا۔ جی امی مجھے وہ یاد ہیں ایک گاڑیوں کی ٹکر والی اور دوسری آگ میں ہاتھ جلنے والی۔ شاباش میری بیٹی کو سب یاد ہے علیشاہ کی امی نے خوشی سے کہا۔ اچھا اب سنو میں تمھیں بتاتی ہوں کہ دونوں میں کیا فرق ہے۔ جب گاڑیوں کی ٹکر ہوئی تھی اگر وہاں کوئی دیکھنے والا یا پولیس والا وہاں نہ ہوتا اور ٹکر مارنے والا بھاگ جاتا تو ممکن ہے کہ سزا سے بچ جاتا مگر دوسری مثال میں ناصر گھر میں ہوتا یا باہر، اکیلے ہوتا یا کسی کے سامنے ، جہاں کہیں بھی آگ میں ہاتھ ڈالتا اُسے ویسا ہی درد ہوتا اور اُس کا ہاتھ جل جاتا۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی دیکھ رہا ہے ےا نہیں۔ یہ ہے اللہ اور انسانوں کے بنائے ہوئے قانون میں فرق ۔ علیشاہ نے کہا کہ امی جان آپ کا مطلب ہے کہ انسانوں کے بنائے ہوئے قانون میں بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جُرم کرنے والا سزا سے بچ جاتا ہے لیکن اللہ کے قانون میں ایسا نہیں ہوتا۔ جی بیٹا تم بلکل صحیح سمجھی ہو انسانوں کے قانون میں تو کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جُرم کوئی کرتا ہے اور سزا کسی اور کو ملتی ہے لیکن خدا کے قانون میں یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آگ میں اُنگلی کوئی ایک ڈالے اور درد کسی اور کو ہو۔ درد اُسی کو ہو گا جو آگ میں اُنگلی ڈالے گا اور جو اُنگلی نہیں ڈالے گا اُسے درد بھی نہیں ہو گا۔ خدا کے قانون میں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ جُرم کرنے والے کو سزا نہ ملے اور بے گناہ مفت میں پکڑا جائے اور اُسے سزا ملے۔
اِس کے علاوہ دو اور بہت بڑے فرق ہیں۔ امی جان نے کہا۔
وہ کیا امی جان علیشاہ نے پوچھا۔
امی جان۔ ایک فرق یہ ہے کہ انسانوں کے قانون میں تو تبدیلی ہو سکتی ہے مگر اللہ کے قانون میں تبدیلی ممکن نہیں۔
علیشاہ۔ وہ کیسے امی جان۔
امی جان۔ انسان اپنے لیے خود قانون بناتے ہیں اور جب چاہیں وہ خود ہی اُس کو بدل سکتے ہیں۔ جیسے سویڈن اور کچھ دوسرے ملکوں میں
پہلے گاڑیاں بائیں ہاتھ چلنے کا قانون تھا پھر انہوں نے بدل کر اب دائیں ہاتھ چلنے کا قانون بنا لیا ہے۔ حکومت اور اسمبلی اکثر
نئے قانون بناتی رہتی ہے اور پرانے قانون میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے مگر اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔
علیشاہ۔ کیا اللہ کے قانون میں تبدیلی نہیں ہوتی۔
امی جان۔ نہیں بیٹا اللہ کے بنائے ہوئے قانون میں کوئی بھی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ تمام دنیا کے انسان بھی مل کر ایسا نہیں کر سکتے۔
سب چاہیں بھی تو مل کر یہ نہیں کر سکتے کہ آگ میں ہاتھ ڈالیں اور وہ نہ جلائے۔ اللہ نے آگ میں جو خاصیت رکھی ہے
اُسے کوئی نہیں بدل سکتا۔ یہ اللہ کا قانون یعنی اللہ کا طریقہ ہے جسے سنت اللہ کہتے ہیں ۔
علیشاہ۔ دوسرا فرق کون سا ہے امی جان۔
امی جان۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ اللہ کا قانون ہر جگہ ایک جیسا ہوتا ہے۔ مگر انسانوں کا قانون ہر جگہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔
علیشاہ۔ کیا انسانوں کا قانون ہر جگہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔
امی جان۔ نہیں بیٹا۔ انسانوں کا قانون ہر جگہ ایک جیسا نہیں۔ مثلاً پاکستان ، برطانیہ ، بھارت اور کچھ دیگر ملکوں میں گاڑی کو سڑک
کے بائیں جانب چلانے کی اجازت ہے لیکن سویڈن، اٹلی اور دنیا کے بہت سے ممالک میں گاڑی صرف دائیں طرف ہی چلا سکتے
ہیں۔ اِسی طرح اور بہت سے قانون ہیں جو ہر جگہ ایک جیسے نہیں۔
علیشاہ۔ تو کیا اللہ کے قانون ہر جگہ ایک جیسے ہیں۔
امی جان۔ جی بیٹا اللہ کے قانون ہر جگہ ایک جیسے ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی کوئی آگ میں ہاتھ ڈالے تو اُس کا ہاتھ جل جائے
گا۔ کوئی جہاں مرضی ہو، اکیلا ہو یا کسی کے ساتھ۔ پاکستان میں یا بھارت میں یا دنیا کے کسی بھی ملک میں۔ چھوٹا ہو یا بڑا،
مسلمان ہو یا غیر مسلم سب کے لیے قانون ایک جیسا ہے۔ اِسی طرح اللہ کے بنائے ہوئے سارے قانون سب جگہ ایک جیسا
نتیجہ پیدا کرتے اِسی لیے ہمیں اللہ کے قانون ماننا ہوتا ہے اور اُس کے مطابق زندگی بسر کرنی چاہیے۔ اِسی کو اسلام کہتے ہیں۔
علیشاہ نے کہا امی جان اب مجھے اچھی طرح پتہ چل گیا ہے اور اب میں کل اپنے دوستوں کو بھی یہ سب بتاؤں گی اور وہ بھی یہ جان کر بہتخوش ہونگے ۔

 

عارف کسانہ

 

 

 

 

 


Afkare Taza: Urdu Columns and Articles (Urdu Edition)

This website was built using N.nu - try it yourself for free.(info & kontakt)